خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 842 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 842

خطبات ناصر جلد دوم ۸۴۲ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء غرض ان حقائق کے نتیجہ میں ہمارے یہ دن اور یہ راتیں وجود پذیر ہوتی ہیں۔فرمایا یہ وہ زمین ہے جس کے یہ دن اور یہ راتیں ہیں۔ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار تجلیات جلوہ فگن ہیں۔پھر سورج اور چاند کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ اس زمین کا ایک خاص تعلق سورج اور چاند دونوں کے ساتھ ہے۔مثلاً سورج زمین کو اتنی کھا د دے رہا ہے کہ اس ترقی یافتہ زمانے میں ساری دنیا کے کھاد کے کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعی کھاد مجموعی طور پر اس کا کھر بواں حصہ بھی نہیں بلکہ صحیح جزو بتانے کے لئے شاید ہمارے اعداد و شمار ختم ہو جائیں۔اس سلسلہ میں باتوں باتوں میں ایک نئی تحقیق میرے ذہن میں آگئی ہے وہ بھی میں بتا دیتا ہوں۔سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ جب بادل آتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے ایک تو گرج کی آواز ہے جو بعض لوگوں کو ڈرا دیتی ہے اور بعض کو اللہ تعالیٰ کی حمد پر مجبور کر دیتی ہے۔چنانچہ بادلوں میں چمکنے والی یہ بجلی نصف گھنٹے میں اتنی مصنوعی کھاد پیدا کر دیتی ہے جس کو ساری دنیا کے کارخانے ایک دن یا شاید ایک سال میں جا کر بھی تیار نہیں کر سکتے۔بہر حال سورج اور چاند کے ساتھ زمین کا تعلق جس حد تک ہماری سائنس نے ہمیں بتایا ہے وہ ایک ظاہر و با ہر حقیقت ہے۔سورج کے ساتھ زمین کے تعلق کی ایک چھوٹی سی مثال میں نے ابھی دی ہے اب چاند کے زمین کے ساتھ تعلق کی بھی مثال دے دیتا ہوں جو چھوٹے بچوں کے لئے دلچسپی کا موجب بھی ہوگی۔چاندنی راتوں میں یہ لمبی سی تر یعنی لکڑی اس رفتار سے بڑھ رہی ہوتی ہے کہ اس کی آواز انسان اپنے کانوں سے ٹن سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ چاند کی روشنی پھلوں کو فربہی بخشتی ہے اور پھر بھی چاند میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوئی۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کی گونا گوں صفات کے جلوے ہیں جو سورج اور چاند کے زمین کے ساتھ تعلقات میں ہمیں یہاں اور وہاں نظر آتے ہیں۔یہ ہے وہ زمین جسے قرآن کریم نے الارض کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔اب میں ان جزئیات کے ذکر کو چھوڑ کر کہ ان کا بیان کرنا بھی ضروری تھا زمین کی بعض اصولی خصوصیات کی طرف آتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ انْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ موزون (الحجر :۲۰) کہ ہم نے زمین میں ہر چیز موزوں پیدا کی ہے۔موزوں کا لفظ ایک تو نسبت کو