خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 840 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 840

خطبات ناصر جلد دوم ۸۴۰ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء جو حدوث کا رنگ اختیار کیا اُس کے متعلق اس آیت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا جو جلوہ زمین کی صورت میں ظاہر ہوا ہے وہ بیک وقت رتق بھی ہے اور فتق کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔یہ زمین بندھی ہوئی بھی ہے اور اپنے ظاہر ہونے کی اہلیت بھی رکھتی ہے اس میں بظاہر کوئی تضاد نہیں کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخفی رازوں کا انکشاف انسانی کوشش کا مرہونِ منت ہے۔جب انسان کوشش کرتا ہے اور تلاش و جستجو میں اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کائنات کے مخفی راز اس پر کھلتے چلے جاتے ہیں جس سے ترقیات کے نئے سے نئے میدان اُس کے لئے نکلتے چلے جاتے ہیں۔قرآن کریم نے زمین کی ایک اور خصوصیت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے فرماتا ہے هُوَ الَّذِي خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ - (الانبياء: ۳۴) اب خالی یہ نہیں فرمایا کہ دن اور رات کو پیدا کیا بلکہ دن اور رات جس طرح پیدا ہوئے ان کا علم بہم پہنچانا بھی مد نظر رکھا۔چنانچہ ہمارے یہ دن اور یہ راتیں جس شکل میں ہمارے سامنے آتی ہیں اور ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں اس کا دارو مدار اس حقیقت پر ہے کہ زمین سورج سے ایک معین فاصلے پر ہے اور زمین ایک معین رفتار سے سورج کے گرد چکر کاٹ رہی ہے اور یہ ایک خاص زاویہ پر اپنا محور بنا رہی ہے اور پھر زمین کی اپنی رفتار بھی معین و مقرر ہے۔یہ سارے حقائق جن کے نتیجہ میں یہ دن جو ہماری اس زمین کا دن کہلاتا ہے وہ دن بنتا اور یہ رات جو ہماری اس زمین کی رات ہے وہ رات بنتی ہے۔کچھ عرصہ ہوا مجھے ایک ایسی کتاب پڑھنے کا موقع ملا جو ایک سائنس دان نے لکھی ہے اور جس میں اس نے خدا تعالیٰ کے وجود پر بہت کچھ لکھا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی ہستی کے منکر ہیں وہ ہر چیز کو اتفاقی کہتے ہیں اور ہر چیز کے بارے میں اتفاقی ، اتفاقی کی رٹ لگاتے چلے جاتے ہیں۔مگر ان سارے اتفاقات کا جمع ہو جانا اتفاقی نہیں ہوسکتا۔ایک سائنس یعنی ایک خاص علم ایجاد کیا گیا ہے جسے Science of chances (علم اتفاقات ) کہتے ہیں۔چنانچہ اس سائنس دان نے بھی اس خاص علم یا اس علم کے خاص اصول کی روشنی میں ثابت کیا ہے