خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 836 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 836

خطبات ناصر جلد دوم ۸۳۶ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء زمین صرف وہ نہیں جس میں ہم نے پانی پیدا کیا ہے بلکہ زمین وہ ہے جس میں ہم نے پانی کی مناسب تقسیم کا سامان بھی پیدا کیا ہے اور زمین کو Pollute ( گندہ ) ہونے سے محفوظ رکھنے کے سامان پیدا کر دیئے۔صاف پانی اور گندے پانی کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی۔اگر چہ وہ نظر نہیں آتی لیکن درحقیقت صاف اور گندے پانی کے درمیان ایک دیوار یا حد فاصل قائم ہے۔پس قرآن کریم کی رُو سے اللہ تعالیٰ نے زمین کی تعریف یہ بھی کی ہے کہ جس میں ایسے مختلف اجزا پر مشتمل پانی ہو جس پر زندگی کا سارا دارو مدار ہو۔پھر ایک طرف اس کی صفائی کا انتظام کیا گیا ہو اور دوسری طرف اس کی مناسب تقسیم کا بھی انتظام کیا گیا ہو۔ہمیں صفات باری کے یہ مخصوص جلوے جس وجود میں نظر آ رہے ہیں قرآن کریم اس کو الارض ( یعنی زمین ) کہتا ہے۔چنانچہ اس حقیقت کا اظہار اس آیہ کریمہ میں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَجَعَلَ خِللَهَا أَنْهُرًا وجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا - (النَّمل : ٦٢ ) جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کی تقسیم اور صفائی کا بھی انتظام کیا ہے۔چنانچہ سورج کو کہا (سارے اجرام فلکی انسان کی خدمت پر مامور ہیں ) کہ سمندروں کے پانی کو گرماؤ اور پھر اس سے بخارات کو اُٹھاؤ اور پھر ہواؤں کو کہا یہ کمزور بخارات ہیں یہ وہ سفر کر نہیں سکتے جو ہم ان سے کروانا چاہتے ہیں اس لئے ان کو اپنے کندھوں پر اُٹھاؤ اور جہاں ہم کہتے ہیں وہاں انہیں لے جاؤ۔پہاڑوں کو کہا کہ جب تک پانی کے باریک ذرے آپس میں ٹکرائیں گے نہیں اس وقت تک پانی کی شکل میں زمین پر نازل نہیں ہو سکتے اس لئے تم ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جاؤ تا کہ اس طرح بارش بر سے اور پہاڑی ندی نالے دریاؤں کی شکل میں بہہ نکلیں اور ان دریاؤں کے ذریعہ سے زمین کی سیرابی اور شادابی کا انتظام ہو۔پھر ان پہاڑوں سے یہ بھی کہا کہ دیکھو با دل تو جب ہم کہیں گے وہ آئیں گے لیکن تم کچھ Store ( ذخیرہ کر لوتا کہ تھوڑے بہت پانی کا سارے سال انتظام ہوتا رہے۔چنانچہ برف کی شکل میں پہاڑوں پر Reservoirs ( ذخیرے) قائم کر دیئے جن میں سے تھوڑا بہت پانی سارا سال ہی بہتا رہتا ہے۔پس زمین وہ ہے جس میں پانی ہے اُن اجزا کے ساتھ جن پر حیات کا انحصار ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے