خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 831 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 831

خطبات ناصر جلد دوم ۸۳۱ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء جس وقت اِدھر اُدھر بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور میرے کانوں تک بھی آواز میں پہنچ رہی تھیں اُس وقت میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور رہنمائی کی درخواست کی کہ وہ میرا خود معلم بنے اور اس مسئلہ کی حقیقت کا علم بخشے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سارا مضمون یہ بتا کر سمجھادیا کہ قرآن کریم سے الارض “ کی تعریف معلوم کر لو سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہو جائے گا۔چنانچہ اس کے بعد میں نے غور کرنا شروع کیا۔آیات قرآنیہ دیکھیں اور جس حد تک میری سمجھ میں آیا ہے وہ میں اس وقت دوستوں کے سامنے بیان کر دینا چاہتا ہوں لیکن قبل اس کے کہ قرآن کریم نے جو الارض “ کی تعریف کی ہے وہ بیان کی جائے اور اسے سمجھا جائے ، یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مخلوق کسے کہتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات عالم پیدا کی اس کے کچھ حصوں تک ہماری نظر پہنچی اور پھر تھک کر رہ گئی۔کچھ حصوں تک ہماری دور بینیں پہنچیں، پھر انہوں نے بھی اپنی عاجزی کا اقرار کیا کہ اس سے آگے تو ہم بھی نہیں دیکھ سکتیں۔پھر ہمارا تخیل بھی کہیں سے کہیں تک پہنچا لیکن خدا تعالیٰ کی مخلوق تو انسانی تخیل سے بھی کہیں آگے تک پھیلی ہوئی نظر آئی۔پس ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس عالمین کی بے شمار مخلوق کی تعریف اور حقیقت کیا ہے اس موضوع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔آپ کے چند اقتباسات میں اس وقت پڑھ کر سناؤں گا اور پھر بتاؤں گا کہ مخلوق اسلام کے نزدیک قرآنِ کریم کی رُو سے کس چیز کا نام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔اسی طرح تحقیق کی نظر سے یہ بھی سچ ہے کہ جس قدر اجرام فلکی و عناصر ارضی بلکہ ذرہ ذرہ عالم سفلی اور علوی کا مشہود اور محسوس ہے یہ سب باعتبارا اپنی مختلف خاصیتوں کے جو ان میں پائی جاتی ہیں خدا کے نام ہیں اور خدا کی صفات ہیں اور خدا کی طاقت ہے جو ان کے اندر پوشیدہ طور پر جلوہ گر ہے اور یہ سب ابتدا میں اسی کے کلمے تھے جو اس کی قدرت نے ان کو مختلف رنگوں میں ظاہر کر دیا۔اسی طرح آپ ایک دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:۔یہ ایک ستر ربوبیت ہے جو کلمات اللہ سے مخلوقات الہی پیدا ہو جاتی ہے۔اس کو