خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 830 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 830

خطبات ناصر جلد دوم ۸۳۰ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء پر یقین کرنے اور اس پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہے۔غرض اس قسم کے کفر کے فتوے دیئے گئے اور عدم علم کی وجہ سے خلاف حقیقت باتوں کا اظہار کیا گیا۔دوسری طرف خود ہمارے پاکستان میں ہمارے بعض علماء نے بڑے اچھے مقالے لکھے اور بعض مجالس میں پڑھے بھی گئے ہیں جن میں سے ایک مکرم محمد یوسف صاحب بنوری کراچی کے رہنے والے ہیں انہوں نے ابھی چند دن ہوئے اوقاف کے سیمینار میں تسخیر کائنات پر ایک بڑا اچھا اور معقول مقالہ پڑھا ہے اور اپنے مقالہ میں بعض قرآنی آیات کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس قسم کے کارنامے قرآن کریم کی تعلیم پر کوئی وجہ اعتراض نہیں بنتے۔اس سلسلہ میں میں سمجھتا ہوں کہ تین سوال ہیں جن کا ہمیں جواب دینا چاہیے۔ایک سوال تو یہ ہے کہ کیا زمین سے باہر انسان کا زندہ رہنا ممکن ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا دوسرے اجرام یعنی کروں پر آبادیاں ہیں یا نہیں اور کیا انسان دوسرے اجرام تک پہنچ سکتا یا تعلق کو قائم کر سکتا ہے یا نہیں اور تیسر اسوال یہ ہے کہ کیا قرآن کریم میں ایسی پیشگوئیاں موجود ہیں کہ کبھی کسی زمانہ میں انسان دوسرے کتوں تک پہنچ جائے گا ؟ یہ تین سوال اگر حل ہو جائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر کسی کے دماغ میں کوئی خلفشار یا کوئی بے چینی یا مذہب سے بعد پیدا ہونے کا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا انسان زمین سے باہر یعنی قرآن عظیم کی اصطلاح میں الارض کے جو معنی ہیں اس سے باہر زندہ رہ سکتا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اس زمین یعنی الارض “ سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا لیکن زمین سے یہاں وہ تعریف مراد نہیں جو ایک غیر مسلم کے ذہن میں ہوتی ہے۔مسئلہ زیر بحث کے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ زمین کی تعریف اور اس کے معنی سمجھنے کے لئے اس کتاب عظیم کی طرف رجوع کیا جائے جس نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے اور یہ اعلان فرمایا ہے کہ فِيهَا تَحیون ، تم اسی میں زندگی بسر کرو گے اس کے باہر زندگی بسر نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں الارض کسے کہتے ہیں۔66