خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 826
خطبات ناصر جلد دوم ۸۲۶ خطبہ جمعہ ۲۹ /اگست ۱۹۶۹ء کسی اور سے نہ کوئی رشتہ باقی رہے نہ کسی اور سے کوئی محبت باقی رہے۔نہ کسی اور سے کوئی تعلق باقی رہے۔صرف اللہ تعالیٰ پر ہمارا تو گل ہو۔دنیا کے جتنے رشتے ہیں دنیا کے جتنے تعلقات ہیں وہ خدا میں ہو کر اس کی رضا کے لئے اور اس کی ہدایت کے مطابق ہوں۔یہ دنیا اگر چہ تعلقات پر قائم ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کہے کہ ان رشتوں کو سمجھو تو اس وقت ہم ان رشتوں کو رشتہ سمجھیں۔جب خدا تعالیٰ کہے کہ ان تعلقات کو قائم کرو تو اس وقت ہم ان تعلقات کو قائم کرنے والے ہوں۔ہم خدا تعالیٰ کے حکم اور ہدایت کے مطابق بنی نوع انسان کی اس رنگ میں خدمت کرنے والے ہوں کہ اس کے بندے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو سمجھنے لگیں اور دوسری طرف اس کے بندوں کی دنیوی یا نفسانی تکالیف کو دور کریں جہاں تک نفسانی تکالیف کا تعلق ہے انسان کی ہر تکلیف اس کے نفس سے شروع ہوتی ہے اِذَا مَرِضْتُ “ (الشعراء :۸۱) والی حالت ہوتی ہے۔ہر دکھ اپنے نفس کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور پھر جب خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو جائے تو اس وقت وہ مریض ٹھیک اور وہ دکھ دُور ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے بنی نوع انسان کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے اس وقت دنیا کا بہت بڑا حصہ پیار چاہتا ہے۔دنیا کا بہت بڑا حصہ اپنی عزت نفس کا متلاشی ہے کیونکہ دنیا اس کو وہ عزت و احترام نہیں دے رہی جو اس کا حق تھا۔دنیا کا بہت بڑا حصہ اپنے دکھوں کا مداوا چاہتا ہے اور دنیا کا بہت بڑا حصہ اس جستجو میں ہے کہ اس کی زندگی کس طرح سکون اور آرام سے گزرے اب دنیا کو یہ پیار و محبت یہ عزت و احترام ، یہ دکھ درد کا مداوا اور یہ سکون اور آرام کی زندگی صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی میں بہم پہنچائی جاسکتی ہے۔دنیا والے اس سکون اور آرام کو صرف اس وقت حاصل کر سکتے ہیں جب وہ اپنے نفسوں پر ایک فتا طاری کر کے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفات میں محو ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ سے ایک نئی زندگی پائیں جو دراصل سکون اور آرام کی زندگی ہوتی ہے۔بشاشت اور خوشحالی کی زندگی ہوتی ہے لیکن ان لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا ، انہیں یہ را ہیں بتانا اب آپ کا فرض ہے جسے آپ زبانی تبلیغ اور عملی نمونے سے مؤثر رنگ میں نباہ سکتے ہیں اور ان پر