خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 816 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 816

خطبات ناصر جلد دوم ۸۱۶ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ء نہیں رہیں گے۔غرض احسنِ تقویم یعنی بشریت کا مقام انسانی عزت یا ذلت کا نقطۂ آغاز ہے۔بنی نوع انسان نے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَنْقَكُمُ (الحجرات : ۱۴) کے ان الہی الفاظ میں کہ جو زیادہ متقی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں زیادہ معزز ہے پہلی دفعہ بشریت کے مقام سے بلندی کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے یہ سنا کہ اب تم میں سے بعض معز ز ٹھہریں گے اور بعض ذلیل اور بعض بعض سے زیادہ معزز ہوں گے اور بعض بعض سے نسبتا کم۔ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ سیر روحانی سے بلند ہونے کا مرحلہ تم طے نہیں کر سکتے جب تک تم ہماری ہدایت پر عمل نہ کرو اور قرآن کریم نے بنیادی طور پر ہمیں یہ ہدایت دی کہ سیر روحانی میں بلند یوں کو وہی لوگ حاصل کر سکیں گے جو اعمالِ صالحہ بجالائیں گے یعنی ایک تو یہ کہ ان کے اعمال میں کوئی فساد نہیں ہوگا اور دوسرے یہ کہ ان کے اعمال وقت اور موقع محل کے مطابق ہوں گے اور تیسرے یہ کہ ان کے اعمال خالصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوں گے۔پس وہ عمل جو فساد سے خالی ہو ( اور فساد کی آگے لمبی تفصیل خود قرآن کریم نے بیان کی ہے میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جا سکتا ) اور پھر وہ موقع محل کے مطابق بھی ہو اور ایسا ہو کہ جس کو اختیار کر کے یہ کہا جا سکے کہ یہ وہ شخص ہے جو اس گروہ میں شامل ہو گیا جس کے متعلق آتا ہے وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ (الحج : ۲۵) صراط حمید اس راہ کو کہتے ہیں کہ وہ جس منزل تک انسان کو پہنچائے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں قابل تعریف ہو۔یعنی اللہ تعالیٰ بھی اس کی تعریف کرنے لگے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے پس جن اعمال میں یہ تین خصوصیتیں پائی جائیں گی وہ اعمالِ صالحہ کہلائیں گے اور ان اعمالِ صالحہ کے بجالانے کی کوشش کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اعمال صالحہ بجالانے میں کامیاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں معزب زبن جاؤ گے اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی نگاہ میں ذلیل ہو جاؤ گے۔چنانچہ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات (جن کی میں نے شروع میں تلاوت کی تھی) کے علاوہ اور بھی کئی جگہ بار بار دہرایا ہے یہ بتانے کے لئے کہ توحید خالص کو قائم کرنا بڑا ہی ضروری ہے۔سورہ کہف کی آیہ کریمہ کو تو حید خالص کے ذکر سے شروع کیا اور اس کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ شرک سے پر ہیز کرو۔سورہ حم سجدہ کی آیہ کریمہ