خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 814 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 814

خطبات ناصر جلد دوم ۸۱۴ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ ء آن پڑھ کی عزت کرنی چھوڑ دی ہے اس کے برعکس دولت مند کی عزت کرنی شروع کر دی گئی ہے ہم مسلمان و جاہت اور دبدبہ سے مرعوب ہونے لگے حالانکہ خدا تعالیٰ نے تو یہ فرمایا تھا کہ امیر وغریب بحیثیت انسان ہونے کے سب برابر ہیں۔بشر ہونے کے اعتبار سے ایک سیاسی اقتدار کے مالک شخص اور ایک کم مایہ ، غریب لاچار اور ان پڑھ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور یہ آپس میں برابر ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے دنیا اس تعلیم کو بھول چکی ہے۔انسانی فطرت اس کی بھوکی ہے۔افریقہ کے رہنے والے کئی سو سال سے مختلف نعروں کے درمیان محرومی اور بے عزتی کی زندگی گزارتے چلے آ رہے تھے۔ہمارے مبلغ وہاں گئے اُنہوں نے اسلام کی تبلیغ کی ، اسلامی مساوات سے روشناس کرایا تو وہ حیران ہو گئے اور سوچنے لگے کہ کیا ہم بھی اتنے ہی معزز ہیں جتنے یہ باہر سے آنے والے لوگ معزز ہیں کیونکہ دوسرے مشنریز (Missionaries) نے ان کو یہ احساس ہی نہیں دلایا تھا کہ بحیثیت انسان ہونے کے وہ بھی شرف اور مرتبہ رکھتے ہیں اور عزت و احترام کے مستحق ہیں۔اُن کے سامنے جب یہ تعلیم پیش کی گئی اور جب اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ انما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم جو سب زمانوں اور مکانوں کے لئے مبعوث ہوئے تھے جن کی عزت اربوں ارب لوگوں نے کی اور ہوتی چلی جائے گی جن کے لئے فدائیت کے بے نظیر نمونے پیش کئے گئے۔آپ نے یہ فرمایا ہے کہ میں بلحاظ بشر ہونے کے تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔چنانچہ اتنے بڑے اور عظیم الشان انسان کی زبان مبارک سے رنگ ونسل کی تفریق کو یکسر مٹادینے کی اس تعلیم سے وہ بے حد متاثر ہوتے ہیں اور اس محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان کے دلوں میں عزت و احترام کا بے پناہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب وہ ہمارے مبلغوں سے گلے ملتے ہیں اور ان سے پیار و محبت کرنے لگے ہیں۔غرض اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ میں اللہ تعالیٰ نے جن ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے ان کی طرف متوجہ ہونا ہر ایک احمدی کے لئے از بس ضروری ہے۔