خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 808
خطبات ناصر جلد دوم ۸۰۸ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ء کی طرف مختلف انبیاء مختلف زمانوں میں مبعوث ہوتے رہے اور پہلی کتب کی یہ تعلیمیں صرف اخلاقی اور روحانی تربیت ہی کے لحاظ سے نہیں بلکہ دنیوی تعلقات کے لحاظ سے بھی انسان ، انسان میں فرق کرتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کے انبیاء کی تعلیمات میں بہت سی تحریف اور تبدیلی واقع ہو چکی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ یہ تعلیمات انسانی مقام اس کے شرف اور مرتبہ کو قائم کرنے والی نہیں ہیں۔یہی حال بنی اسرائیل کے انبیاء کا ہے ایک زمانہ میں وہ بڑی مظلوم قوم تھی۔ان کی قومی عزت خطرہ میں تھی۔تب اللہ تعالیٰ نے اُن کو انتقام کی تعلیم دی اُن میں عزت نفس پیدا کی۔پھر گو وہ اس پر قائم نہ رہ سکی اور دوسری Extreems ( انتہا) پر چلی گئی تاہم ان انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی یہ غرض نہیں تھی کہ وہ اس بات کا بھی اعلان کریں کہ بنی نوع انسان اشرف المخلوقات ہیں اور آپس میں سب برابر ہیں لیکن چونکہ ایک خاص وجہ سے اور ایک خاص مقصد کے پیش نظر جس کا ذکر میں ابھی کروں گا انسانی شرف کو قائم کرنا تھا اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ اعلان کیا گیا کہ تمام انسان برابر ہیں اور ہمیں ایک ایسی تعلیم دی گئی جس میں انسانی شرف اور مرتبہ کو وضاحت سے بیان کر دیا گیا اور یہ تعلیم صرف عرب کے رہنے والوں کو مخاطب کر کے نہیں دی گئی۔تمام عالمین کے انسان اس تعلیم کے مخاطب ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسانی مرتبہ کو سمجھانے کے لئے فرمایا۔وَمِنْ آيَتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا اَنْتُمْ بَشَر تَنْتَشِرُونَ۔(الروم : ۲۱) اللہ تعالیٰ کی زبر دست نشانیوں اور اس کی قدرتوں کے حیرت انگیز نظاروں میں سے ایک نظارہ یہ ہے کہ اُس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے ہماری اس زمین کی ہر چیز مٹی سے پیدا ہوئی ہے مٹی کے اجزا اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک خاص محسوس و مشهود شکل اختیار کر لیتے ہیں مثلاً پھلوں میں سے آم یا انگور وغیرہ ہیں۔اناجوں میں سے گندم یا جو، مکی یا باجرہ ہیں۔لحمیات میں سے پرندوں کا گوشت ہے، چوپایوں کا گوشت ہے اور مچھلیوں کا گوشت ہے اسی طرح کی اور بھی بے شمار مختلف چیزیں ہیں مگر دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے مٹی سے پیدا ہوئی ہے۔