خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 803 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 803

خطبات ناصر جلد دوم ۸۰۳ خطبه جمعه ۱۵ /اگست ۱۹۶۹ء آیت میں جو ابھی میں نے پڑھی ہے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دینی اور دنیوی ترقی کے لئے اور حسنات کے حصول کے سامان پیدا کرنے کے لئے ”حق“ کو اُتارا ہے یعنی ایک قائم رہنے والی اور دائمی شریعت اور صداقت اور حق اور حکمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اسی نزول حق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کر دیئے ہیں۔ہر انسان ایک انفرادیت اپنے اندر رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہے۔اسی کے مد نظر اللہ تعالیٰ نے ایک حد تک ڈھیل بھی دی ہے۔اسی لئے فرمایا کہ جنت کے آٹھ دروازے ہوں گے سات دروازے ایثار اور قربانی کی مختلف راہوں کو اختیار کرنے والوں کے لئے کھلیں گے کوئی ایک طرف سے خدا کی رضا کی جنت میں آ رہا ہے اور کوئی دوسری طرف سے لیکن کچھ وہ بھی ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور فضل کا خاص دروازہ ان کے لئے کھولا جائے گا خواہش تو ہر ایک کی ہے اور ہونی چاہیے کہ وہ خاص دروازہ جو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے کھولا جائے گا وہی اس کے لئے کھلے کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص اپنی عاجزی کی انتہا کو پہنچ گیا اور اس نے اپنا کچھ نہ سمجھا اور ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر رکھا۔دیکھونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضل اور بلند تر ہستی ہے کہ جس نے خدا کی راہ میں وہ قربانیاں دیں کہ کسی ماں جائے کو یہ توفیق نہ ملی اور نہ ملے گی کہ اس قسم کی قربانیاں اپنے رب کے حضور پیش کرے لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنا یہی مقام سمجھا اور آپ اسی مقام پر قائم رہے کہ میں کچھ نہیں۔ہر چیز اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو سکتی ہے میرا اللہ کے اس ارفع قرب کو پا لینا بھی محض اسی کے فضل کا نتیجہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حق نازل ہوا ہے اب حق تمہاری خواہشات کی اتباع نہیں کرے گا۔اس ”حق“ نے کچھ حدود مقرر کی ہیں اور تمہاری خواہشات اور ہوائے نفس ان حدود سے باہر نکلنا چاہتے ہیں اس کی تمہیں اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اگر ایسا کیا جاتا تو لَفَسَدَتِ السَّموتُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ زمین و آسمان کو جس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور انسان کو جس مقصد کے لئے اس زمین میں بسایا گیا ہے وہ مقصد حاصل نہ ہوتا اور اس طرح صالح معاشرہ کی بجائے ایک فاسد معاشرہ کی بنارکھی جاتی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے۔اسی غرض کے لئے اس نے حق کو اُتارا ہے اس لئے ہر وہ چیز جو اس