خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 794
خطبات ناصر جلد دوم ۷۹۴ خطبہ جمعہ ۸ راگست ۱۹۶۹ء بنیادی تعلیم اور تربیت کے اصول پر غور کریں جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور اساتذہ کو خصوصاً چاہیے کہ وہ ان باتوں کا خیال رکھتے ہوئے ان بنیادی باتوں کی وضاحت کرتے رہیں اور کوشش کریں کہ ہمارے بچوں کے ذہن میں یہ بنیادی ہدایتیں راسخ ہو جائیں تا کہ ان کی زندگی اندھیروں میں بھٹکتی نہ پھرے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے ہمیشہ منور رہے۔سورۃ لقمان میں حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بچے کو جو نصیحت کی اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بچپن کے زمانہ سے ہی اسلامی تعلیم کی دس بنیادی باتیں بچوں کو بتاتے رہنا چاہیے اور ان کی تربیت اسی تعلیم کی روشنی میں کرنی چاہیے۔پہلی اور بنیادی چیز ( یعنی ان چیزوں میں سے بھی جو بنیادی ہے ) شرک سے اجتناب اور توحید پر قائم ہو جانا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ یہ بات بچے کے ذہن نشین کر دینی چاہیے کہ خدائے واحد و یگانہ کا کوئی شریک نہیں ، نہ اس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں۔وہی ایک واحد و یگانہ ہے جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا۔عالمین کو پیدا کیا یعنی اس مخلوق کو پیدا کیا جو موجود ہے اور جس تک ہمارا علم یا ہماری نظر یا ہمارا تخیل پہنچا ہے یا نہیں۔ان سب چیزوں کا پیدا کرنے والا ایک ہے۔کسی غیر کو اس کی ذات اور صفات میں شریک کرنا یہ ظلم عظیم ہے۔ظلم کے معنے ہیں کسی چیز کو غیرمحل میں رکھ دینا یعنی جو چیز خدا کی تھی اسے کسی غیر کو دے دینا۔جو صفت محض اللہ تعالیٰ کی ظلیت میں اور اس کی اتباع میں حاصل کی جاسکتی تھی فی نفسہ اس صفت سے متصف کسی غیر کو سمجھنا یا خود کو سمجھ لینا یہ غلط ہے اور غلط جگہ پر اس صفت کو منسوب کیا گیا ہے اور پھر فرمایا کہ نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی غیر کو شریک نہیں ٹھہرانا بلکہ خدا کو واحد اور یگانہ سمجھنا ( اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی ) اور تمام صفاتِ حسنہ سے اسے متصف سمجھنا اور یہ یقین رکھنا کہ جو بھی مخلوق ہے وہ در حقیقت اسی کی صفات کے جلوے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا وہ مخصوص جلوہ نہ ہوتا جو ہوا تو ہم جو آج یہاں بیٹھے ہیں پیدا بھی نہ ہوتے۔یہاں جمع ہونے کا تو سوال ہی نہیں ہوتا وہ ایک خاص جلوہ تھا جس نے ہم میں سے ہر ایک کو خلق کیا پھر اس کو طاقتیں دیں پھر اس کی نشوونما کی پھر اس کو یہ توفیق دی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو