خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 763
خطبات ناصر جلد دوم ۷۶۳ 66 خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء آسمان سے زمین تک اپنے حکم کو قائم کرنے کے لئے تدبیر کرتا ہے،منصوبہ بناتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا منصوبہ انسان کے منصوبہ سے بہت ہی مختلف ہوتا ہے انسان کو بہت سے اعداد و شمار اکٹھے کرنے پڑتے ہیں، گھنٹوں سوچنا پڑتا ہے دوسروں سے مشورے لینے پڑتے ہیں اور جو حقیقی مومن ہیں ان کو بڑی دعائیں کرنی پڑتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے۔تب جا کر انسانی منصو بہ بنتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں وہ تو زمان و مکان کی قیود سے بالا ہستی ہے وہ اپنی تدبیر کا ایک سیکنڈ میں (اگر چہ سیکنڈ کا تعلق وقت سے ہے اور یہ محاورہ غلط سہی لیکن اپنے مفہوم کو سمجھانے کے لئے اس کے بغیر چارہ نہیں۔ایک سیکنڈ کے ہزارویں یا کروڑو میں حصہ یا جو بھی کہہ لیں اس کے اندر ) اپنی تدبیر کا فیصلہ کر دیتا ہے۔"كُن فيكون “ والا معاملہ ہوتا ہے۔بہر حال ہمیں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حکم کو جاری کرنے کے لئے تدبیر کرتا ہے اور اس کی یہ تد بیر آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے۔اس لئے حقیقی تد بیر کرنے والی ہستی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوسری مخلوق سے جدا گانہ قوتیں اور استعداد میں دی ہیں۔ایک ہرن کی قوت اور قابلیت انسان کی قوت اور قابلیت سے مختلف ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس رنگ میں جسمانی قوی بخشے ہیں اس قسم کے قومی دوسری مخلوق یعنی جانداروں وغیرہ کو نہیں عطا کئے۔حالانکہ جسمانی لحاظ سے انسان اور دوسرے جاندار بظاہر ایک جیسے اور مشترک القویٰ ہیں۔لیکن جس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسمانی قوی اور قابلیتیں بخشی ہیں اس رنگ میں جانوروں کو طاقت اور قابلیت عطا نہیں کی کیونکہ ایک انسان کو جو جسمانی قوت، قابلیت اور استعداد دی گئی ہے اس کا اثر اس کے اخلاق پر پڑتا ہے لیکن ایک ہرن کو جو جسمانی قوت اور طاقت دی گئی ہے اس کا اثر اس کے اخلاق پر نہیں پڑتا کیونکہ اخلاق کا تعلق انسان سے ہے ہرن سے نہیں۔انسان کو جو جسمانی قوتیں عطا ہوئی ہیں ان کی صحیح یا غلط نشو و نما کے نتیجہ میں اس کا ذہن بھی متاثر ہوتا ہے اس کے اخلاق بھی متاثر ہوتے ہیں اور اس کی روحانیت بھی متاثر ہوتی ہے لیکن ایک ہرن یا کسی دوسری جاندار چیز کے ذہن یا اخلاق یا روحانیت کے متأثر ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا