خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 761
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء اسلام کے اقتصادی نظام میں ہرقسم کے اسراف کی سخت ممانعت ہے خطبہ جمعہ فرموده ۲۵ / جولائی ۱۹۶۹ء بمقام مسجد نور۔راولپنڈی تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اسلامی تعلیم انسانی زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتی اور انسان کی تمام قوتوں اور قابلیتوں کی کامل نشو ونما کرتی ہے میں گزشتہ متعد د خطبات سے اسلام کے اقتصادی نظام کو ایک خاص نقطہ نگاہ سے بیان کر رہا ہوں۔میں نے بتایا تھا کہ جس طرح ہر دوسرے شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والی اسلامی تعلیم عبادت کے سب تقاضوں کو پورا کرتی اور اس مقصد کے حصول میں ممد و معاون ہوتی ہے اور اس پر عمل پیرا ہو کر انسان اپنے مقصدِ حیات یعنی اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ محبت اور قرب کا تعلق حاصل کر لیتا ہے۔اسی طرح اقتصادیات کا بھی زندگی کے ایک شعبہ سے تعلق ہے۔اس شعبہ زندگی کے متعلق بھی انسان کو ایک کامل اور مکمل تعلیم دی گئی ہے اور جو اسلامی ہدایات اقتصادی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں وہ در حقیقت عبادت ہی کا ایک حصہ اور عبادت کے سب تقاضوں کو باحسن وجوہ پورا کرتی ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم کی اس آیہ کریمہ وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكوة وذلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ - (البينة : 1) میں