خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 738
خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۸ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء آزاد نہیں کہ وہ اپنی قوتوں اور استعدادوں کے مطابق صحیح نشوونما پا سکے اس لئے وہ غلام ہی ہے خواہ دنیا اس کو غلام سمجھے اور اس کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹنے کی کوشش کرے اور خواہ دنیا اس کو غلام نہ سمجھے اور اس کی غلامی کی زنجیروں میں اسے جکڑا رکھنے کی کوشش کرے بہر حال اس کی غلامی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہر وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت اچھا ذہن دیا ہے لیکن اس کا ماحول اس کے ذہن کی کماحقہ نشو و نما نہیں ہونے دیتا ، وہ تو درحقیقت غلام ہی ہے اس کے ہاتھ تو بندھے ہوئے ہی ہیں وہ باوجود احساس رکھنے کے اپنی قوتوں کی نشو ونما نہیں کر سکتا اور بعض دفعہ وہ اپنی غلامی کا احساس ہی نہیں رکھتا چنانچہ فرانس کے ایک سیاسی مفکر نے شاید اسی حقیقت کے پیش نظر ایک جگہ لکھا ہے۔66 ‘A slave is to be forced to be free" یعنی ایک غلام کو زبردستی آزاد بنانا پڑے گا کیونکہ اسے اپنی غلامی کا احساس نہیں۔اس مفکر کی منطق اور فلسفہ کے بعض حصوں سے تو اسلام اختلاف رکھتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض دفعہ غلام کو اپنی غلامی کا احساس تک نہیں ہوتا اسلام نے پہلے اسے غلامی کا احساس دلایا ہے۔پھر اس کی آزادی کے لئے ہر قسم کے سامان پیدا کئے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے سورہ بلد کی ان آیات میں فرمایا ہے کہ مال کو ڈھیروں خرچ کر دینا کوئی خوبی نہیں ہے۔خوبی یہ ہے کہ اموال کو اس رنگ میں خرچ کیا جائے کہ دنیا سے ہر قسم کی غلامی مٹ جائے۔وہ غلامی بھی جو ایک بھیانک شکل میں نظر آتی ہے اور وہ غلامی بھی جو بہت سی آنکھوں سے پوشیدہ رہتی ہے اور بعض دفعہ اس غلام کی آنکھ سے بھی پوشیدہ رہتی ہے اور اسے اپنی غلامی کا خیال ہی نہیں ہوتا لیکن ہر قسم کی غلامی دور ہونی چاہیے اس معنی میں کہ ہر آدمی اس بات میں آزاد ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کے اندرا اپنی استعدادوں کی نشو ونما کو کمال تک پہنچا دے۔پس اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم میں عزت واحترام کے حصول کا سامان رکھ دیا ہے یعنی ایک شخص کو مال دے دیا ہے۔سارے مال پر جس کا حق نہیں اور دوسرے کو براہِ راست نہیں دیا جس کے حق کو اس نے قائم کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں