خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 715
خطبات ناصر جلد دوم ۷۱۵ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء اور استعدادیں پیدا کرتا ہوں ساتھ ان کے سامان بھی پیدا کرتا ہوں اس واسطے ہر فر داور ہر خاندان اور ہر قوم کی قوتوں اور استعدادوں کو انتہائی کمال تک نشو و نما کے ادوار میں سے گزارتے ہوئے پہنچانے والی ضرورت وہ ضرورت ہے جو ہر فرد کی ضرورت اور ہر خاندان کی ضرورت اور ہر بچے کی ضرورت اور ہر بڑے کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کے مطابق اس سے سلوک کرنا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا تھا رحمانیت کے بڑے حسین جلوے نظر آتے ہیں آپ کو چھوٹے چھوٹے بچوں کا خیال ہوتا تھا حالانکہ ابھی ان کا عمل تو شروع نہیں ہوا تھا نہ اسلام کے حق میں ان کی قربانیاں تھیں پھر مالک ہونے کا جلوہ کہ قربانی باپ نے دی اور آگے صلہ بچوں کو مل گیا یہ مالک ہی کر سکتا ہے نا ! یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہی کر سکتا ہے نا ! خدا کی امانت تھی وہی حقیقی مالک ہے اور اسی نے کہا کہ میں یہ اصول وضع کرتا ہوں اس کے مطابق تم خرچ کیا کرو۔اس میں غیر بھی شامل ہے اور تمہارے نفس کا بھی حق ہے اس سے کم اگر کوئی تمہیں دینا چاہے تو ظالم ہے۔جیسا کہ روس میں کمیونزم نے امیروں کو ان کے حقوق سے محروم کرد یا یہ اتنا ہی ظلم ہے جتنا غریب کو اس کے حقوق سے محروم کر نا ظلم ہے ان دو ظلموں میں کوئی فرق نہیں۔جو ایک امیر کا حق ہے بحیثیت انسان کے، بحیثیتِ رَبُّ الْعَلَمِینَ کی ایک مخلوق کے، بحیثیت ان قوتوں اور استعدادوں کے جو اسے رب العلمین نے دی ہیں۔اس کا جو حق ہے وہ اس کو ملنا چاہیے۔چاہے کوئی امیر گھرانے میں پیدا ہو اور چاہے کوئی غریب گھرانے میں پیدا ہولیکن کوئی ازم تو غریب کی پروا نہیں کرتا اور کوئی ”ازم امیر کی پروا نہیں کرتا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ازم اللہ تعالیٰ کی عطا کے ایک حصہ کو ٹھکرا تا اور کفرانِ نعمت کرتا ہے لیکن اسلام کا اقتصادی نظام اللہ تعالیٰ کی ہر عطا سے صحیح فائدہ اٹھاتا اور شکر ان نعمت کرنے والا ہے خدا کرے کہ ہم اس کے شکر گزار بندے بنیں۔(روز نامه الفضل ربوه ۶ /اگست ۱۹۶۹ ء صفحه ۳ تا ۱۰)