خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 711 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 711

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء چاہتا ہے اس صفت کو چھوڑ نہیں سکتا اور راستباز کی خود بھاری نشانی یہی ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کے لئے ان چار صفتوں کو پسند کرتا ہے ایسا ہی اپنے نفس کے لئے بھی یہی پسند کرے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اِيَّاكَ نَعْبُدُ کی تفسیر کرتے ہوئے اعجاز مسیح “ میں تحریر فرماتے ہیں۔یہ عربی میں ہے اس کا ترجمہ یہ ہے:۔اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کسی بندہ کے لئے ممکن نہیں کہ اس وَحْدَهُ لا شَرِيكَ کی بارگاہ سے توفیق پانے کے بغیر عبادت کا حق ادا کرے اور عبادت کی فروع میں یہ بھی ہے کہ تم اس شخص سے بھی جو تم سے دشمنی رکھتا ہوا ایسی ہی محبت کرو جس طرح اپنے آپ سے اور اپنے بیٹوں سے کرتے ہو اور یہ کہ تم دوسروں کی لغزشوں سے درگزر کرنے والے اور ان کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنے والے بنو اور نیک دل اور پاک نفس ہو کر پرہیز گاروں والی صاف اور پاکیزہ زندگی گزار و اور تم بری عادتوں سے پاک ہو کر باوفا اور باصفا زندگی بسر کرو اور یہ کہ خلق اللہ کے لئے بلا تکلف اور بلا تصنع یعنی نباتات کی مانند نفع رساں وجود بن جاؤ اور یہ کہ تم اپنے کبر سے اپنے کسی چھوٹے بھائی کو دکھ نہ دواور نہ کسی قول اور بات سے اس کے دل کو زخمی کرو۔بلکہ تم پر واجب ہے کہ اپنے ناراض بھائی کو خاکساری سے جواب دو اور اسے مخاطب کرنے میں اس کی تحقیر نہ کرو اور مرنے سے پہلے مرجاؤ اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر لو اور جو کوئی تمہارے پاس آئے اس کی عزت کر وخواہ وہ بوسیدہ کپڑوں میں ہو نہ کہ نئے جوڑوں اور عمدہ لباس میں۔اور تم ہر شخص کو السلام علیکم کہو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو اور انسان کی غم خواری کے لئے ہر دم تیار کھڑے رہو۔“ عبادت کے مختلف تقاضوں کی طرف جماعت کو نصیحت کے رنگ میں متوجہ فرمایا ہے۔بہر حال اس وقت میں یہ مضمون بیان کر رہا ہوں کہ اسلام کا یہ دعوی ہے کہ جو اقتصادی نظام دنیا میں وہ قائم کرتا ہے کوئی دوسرا اقتصادی نظام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اس کی دلیل دیتے ہوئے اس کی خوبیوں اور اس کے حسن کو اس طرح اجاگر کیا ہے کہ دیکھو ! ہمارا قائم کردہ اقتصادی نظام ان خوبیوں کا ، اس محسن کا ، ان احسانوں کا حامل ہے۔یہ باتیں تم دوسرے نظاموں میں بھی تو دکھاؤ۔