خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 707 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 707

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء انتظام ہونا چاہیے اس کے ذہن کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اس کی ذہنی نشوونما کے لئے جن سامانوں کی ضرورت تھی وہ میں نے پیدا کر دیئے ہیں۔اب اے زید ،اے بکر ، اے فلاں، اے فلاں غاصب اور ظالم بن کر اس کا جو حق ہے وہ مارنہ لینا وہ ذہن بتا رہا ہے کہ اس کے ذہن کی نشوونما کے سامان پیدا کئے گئے ہیں پھر ایک شخص ہے اس کے مسلز (Muscles ) اور اعصاب میں بیچ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے بڑی طاقت رکھی ہے اور وہ دنیا کا چوٹی کا پہلوان بن سکتا ہے پس اگر اس کے اندر رستم پہلوان بننے کی طاقت اور قوت اور استعداد ہے تو اسے رستم پہلوان بننا چاہیے تا وہ اس طرح اسلام کی خدمت کر سکے۔غرض رب العلمین کا یہ اعلان ہے کہ اس قوت اور اس استعداد کو اس کے نشو و نما کے کمال تک پہنچانے کے سامان میں نے اس دنیا میں پیدا کر دیئے ہیں وہ اسے ملنے چاہئیں۔اسی طرح جس کو انجینئر بنے کا دماغ ملا ہے اس کو فلسفہ پڑھا کر اس کے دماغ کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ہمارے ملک میں بہت سارے ذہن اس لئے ضائع ہو جاتے ہیں کہ ان کو ان کا حق نہیں ملتا باپ کو صرف اتنادیا کہ وہ فلسفی بنا سکے اور بیٹے کو اللہ میاں نے دماغ اتنا دے دیا کہ وہ انجینئر بنے سائنس اور آرٹس کے مضمونوں میں فیسوں کا فرق ہے۔بعض ایسے خاندان بھی ہیں کہ جن کی مالی حالت ایسی ہے کہ وہ اس چھوٹے سے خرچ کو بھی برداشت نہیں کر سکتے باپ کہتا ہے عزیز من ! دل بھی کرتا ہے کہ تو انجینئر بنے ، تو حساب میں سو فیصدی نمبر بھی لیتا ہے لیکن میں کیا کروں میرے پاس فیس کے پیسے نہیں حالانکہ خدا نے کہا تھا کہ اس کی فیس کے پیسے میں نے پیدا کئے ہیں کوئی چور تھا جس نے اس کی فیس کے پیسے چرا لئے اور وہ چور ہمارا غیر اسلامی نظام ہے چاہے وہ کمیونزم کا نظام ہو یا سرمایہ داری کا نظام ہو۔پس اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جس طرح میں ربّ ہوں، میں نے ہر قوت کی نشوونما کے لئے استعداد پیدا کی اور سامان پیدا کئے ہیں تم اگر میری ظلیت میں رب بنو گے اور اس خلق کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ گے تب میری عبادت کا حق ادا کر سکو گے اور دنیا میں وہ نظام قائم ہو سکے گا جو میں اقتصادی طور پر قائم کرنا چاہتا ہوں۔پھر ( جیسا کہ میں نے ابھی مثالیں دی ہیں ) رحمانیت اور رحیمیت ہے۔اللہ تعالیٰ نے