خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 705
خطبات ناصر جلد دوم ۷۰۵ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء کے لئے ، ہمارے نفسوں میں سکون پیدا کرنے کے لئے یہ سامان مہیا ہونے چاہئیں۔یہ ہیں تو ہلاکت کے سامان لیکن وہ کہیں گے کہ یہ ہماری کھیلوں کے سامان ہیں یہ ہماری دلچسپی کے سامان ہیں یہ ہمیں ملنے چاہئیں ورنہ ہم مارے گئے ہماری حق تلفی ہوگئی ، بعض دفعہ باتوں باتوں میں یہ اقوام اس چیز میں بھی مقابلہ کر لیتی ہیں کہ ہم بڑے امیر ہیں ہمارا ایک عام مزدور ہفتہ میں دس بوتلیں شراب کی پیتا ہے اور تمہارا غریب ملک ہے تمہارے مزدور کو صرف چھ بوتلیں شراب کی ملتی ہیں ( یہ چھ بھی لعنت اور وہ دس بھی لعنت اسلام کا اقتصادی نظام تو شراب کے ایک قطرہ کا بھی روادار نہیں ہے ) پس یہ مطالبہ غلط ہے یہ اطاعت کے اصول کے خلاف ہے۔پچھلی عالمگیر جنگ میں انہوں نے اتنا گند مچایا تھا۔حالانکہ یہ اقوام بڑی مہذب کہلاتیں ہیں ( اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے ) انہوں نے اپنی فوجیں جب غیر ملکوں میں ظلم اور تعدی کے لئے بھجوائیں تو فوج کے ساتھ کچینیوں کی فوج بھی جاتی تھی کہ بیچارے اپنی جان دینے کے لئے جار ہے ہیں جو فرصت کے اوقات ملتے ہیں ان میں وہ بدمعاشی کر کے سکون بھی نہ حاصل کریں۔پس خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اطاعت میری کرنی ہے، غیر اللہ کی اطاعت یا نفس کی خواہشات کی اطاعت نہیں کرنی اور تب ایک حسین معاشرہ اور ایک احسن اقتصادی نظام قائم ہوگا ورنہ نہیں ہوگا۔عبادت حقیقی کا تیسرا تقاضا یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا رنگ اپنے اخلاق پر چڑھاؤ یہ توحید عملی کو قائم کرنے کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اصولاً، عقلاً اور اگر کسی کو عرفان حاصل ہو تو عرفانا یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس عالمین ، اس دنیا کا بنیادی پتھر توحید باری تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اس کے بغیر انسان نہ اس زندگی میں اور نہ اس زندگی میں کامیاب ہو سکتا ہے اور اطاعت تب ہی ہوسکتی ہے جب تم اپنے اخلاق پر اللہ تعالیٰ کا رنگ چڑھاؤ گے۔اگر تمہارے اخلاق پر اللہ تعالیٰ کا رنگ نہیں تو اطاعت کا دعوئی اور اس بات کا دعویٰ کہ جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے اس کی رضا کے لئے ہم بھی وہی چاہتے ہیں یہ غلط ہوگا۔میں نے پچھلے خطبات میں بتایا تھا کہ اقتصادی نظام میں بھی ہمیں بنیادی طور پر چار صفات