خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 702
خطبات ناصر جلد دوم ۷۰۲ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء کہ اپنے دل کو غیر اللہ کے دخل سے بالکل خالی کر لے اور اس طرح پر توحید عملی حق نفس میں ثابت ہو جاتی ہے کہ نفس کی ہر وہ کمزوری جو غیر اللہ کی طرف جانے والی ہے اس سے انسان بچ جاتا اور اس پر غالب آ جاتا ہے اور دل غیر اللہ سے خالی ہو جاتا ہے اور دل اللہ کے اخلاق اور اللہ تعالیٰ کے انوار سے بھر جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں نفس کو فنا فی اللہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔یہ صوفیاء کی ایک اصطلاح ہے جس کے یہی معنے ہیں کہ نفس اتارہ کی تمام برائیوں سے بچ کر نفس مطمئنہ جن اخلاق فاضلہ کے نتیجہ میں اطمینان حاصل کرتا ہے انسان کا اخلاق حسنہ کے اس زیور سے آراستہ ہوجانا یہ فنا فی اللہ کا مقام ہے کیونکہ غیر پھر پیچ میں نہیں رہتا۔پانچویں قسم کی توحید علمی حقوق العباد سے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان کو اپنے جیسا کمزور اور لاشے محض سمجھنا سارے بندوں کا ایک دوسرے پر حق ہے کہ ہر شخص اس یقین پر قائم ہو کہ جس طرح میں عاجز بندے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں لاشے محض ہوں ہر دوسرا انسان بھی ویسے ہی لاشے محض ہے پھر وہ کشکول لے کر دوسرے کے پاس نہیں جائے گا وہ تہجد کے وقت اُٹھ کر اپنے خدا سے مانگے گا گویا تمام بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ کی مخلوق اور بندہ سمجھنا اور بالکل بیچ اور نیست جاننا اور دوسرے یہ کہ اس بات پر قائم ہونا کہ جو حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں وہ توفیق باری کے بغیر محض اپنے زور سے ادا ہو نہیں سکتے ایک طرف یہ کہ اپنے زور سے انسان اپنا یا کسی اور کا حق قائم نہیں کر سکتا دوسری طرف یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کا جو حق قائم کیا ہے وہ اسے ملنا چاہیے یہ حقوق العباد سے تعلق رکھنے والی توحید علمی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی رب ہے اس نے ساری قوتوں کو پیدا کیا ہے۔ہندوؤں کی طرح یہ نہیں کہ روح بھی اللہ تعالیٰ کی طرح ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے اور مادی ذرات بھی اور ان کے خواص بھی خدا تعالیٰ کی مخلوق نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔اسلام یہ کہتا ہے کہ اللہ رب ہے اور اس نے اس تمام کائنات کو پیدا کیا ہے اسی نے طاقتیں اور استعداد میں پیدا کیں اور حقوق قائم کئے ہیں ایک یہ کہ دوسرے کو بھی اپنے جیسا لاشے محض سمجھنا اور دوسرے یہ کہ ہر شخص کا جو حق رَبُّ الْعَلَمِينَ نے قائم کیا ہے اسے سمجھنا اس کا علم رکھنا۔