خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 59 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 59

خطبات ناصر جلد دوم ۵۹ خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۶۸ء ساتھ کوئی لگا و باقی نہیں چھوڑتی اپنا نفس بھی انسان بھول جاتا ہے تمام انسانی خواہشات کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے رضا کے حصول کی تڑپ ہوتی ہے جو اس کی جان اور اس کی روح بن جاتی ہے اور ذاتی محبت اللہ تعالیٰ کے لئے انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ نجات اگر تم حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جو کامل اور مکمل اُسوہ ہیں ) کی اتباع کرو اور آپ کے لئے حقیقی اور سچی محبت اپنے دل میں پیدا کر و تب خدا تعالیٰ کی محبت پاؤ گے اس کے بغیر نہیں پاسکتے۔پس ہمیں نجات کے حصول کی طرف ہر وقت متوجہ رہنا چاہیے اور اس راہ میں ہر قسم کی قربانیاں اور مجاہدات کرتے چلے جانا چاہیے۔اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہماری ان حقیر قربانیوں کو قبول فرمائے کہ ہر خیر اس کے فضل پر منحصر ہے انسان اپنی کسی طاقت یا اپنے کسی عمل یا اپنی کسی قربانی یا کسی ایثار سے خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل نہیں کر سکتا نجات کو نہیں پاسکتا اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہم پر نازل ہو اور وہ تھوڑے کو بہت سمجھ لے وہ حقیر کو اعلیٰ سمجھ لے وہ ایک ذرہ نا چیز کو اپنی دو انگلیوں کے درمیان پکڑ لے اور اس ذرہ ناچیز کے ذریعہ اپنی قدرت نمائی کے سامان پیدا کر دے وہ جو سب قدرتوں والا ہے وہ جو تمام فضلوں اور برکتوں والا ہے وہ اپنے بندے پر فضل اور رحمت اور برکت کی بارش نازل کرنا شروع کر دے۔نجات اسی کے فضل پر منحصر ہے اور اسی کے حصول کو جذب کرنے کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کی محبت کا حکم دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا کرے اور ہمارے لئے عرفان کی راہوں کو ہمیشہ کھولتا چلا جائے۔روزنامه الفضل ربوه ۳ / مارچ ۱۹۶۸ء صفحه ۲ تا ۴)