خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 691
خطبات ناصر جلد دوم ۶۹۱ خطبہ جمعہ ۲۰/ جون ۱۹۶۹ء ہے کہ قرآن کریم کی جو تفصیل ہے اس کا اجمال سورۃ فاتحہ میں پایا جاتا ہے اور یہ سورۃ اُئم الكتاب ہے اس کے بطن سے قرآن کریم کے مضامین نکلتے ہیں۔اگر کوئی شخص سورۃ فاتحہ کو اپنی سمجھ اور استعداد کے مطابق اچھی طرح سمجھ لے تو اس کے لئے قرآن کریم کا سمجھنا اور اس کے مطالب اور معانی اور معارف حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی مختلف کتب میں اور اپنی تقاریر میں جو بدریا الحکم میں چھپیں سورۃ فاتحہ کے بہت سے معانی بیان کئے ہیں اور دنیا کو یہ چیلنج بھی دیا کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے پاس جو آسمانی صحیفے ہیں ان کے بعد قرآن کریم کی ضرورت نہیں تھی۔میں تمہیں اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ قرآن کریم تو قرآن عظیم ہے۔اس کے شروع میں سات آیات پر مشتمل ایک مختصر سی سورۃ ہے اس کے اندر جو معانی اور معارف اور اسرار سماوی پائے جاتے ہیں اور اس میں جو روحانی حکمتیں ہیں ان کا اپنی تمام آسمانی کتب سے مقابلہ کر کے دیکھو تو تم اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ تمہاری ساری آسمانی کتب تو سورہ فاتحہ کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتیں۔اس چیلنج کو میں نے بھی ایک دو دفعہ دہرایا ہے ڈنمارک میں عیسائیوں کا جو وفد مجھے ملا تھا اپنے انٹرویو ( ملاقات ) کے آخر میں میں نے انہیں یہ چیلنج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں دیا تھا کہ سورۃ فاتحہ سے اپنی کتب کا مقابلہ کر کے دیکھ لو ( ان شرائط اور تفاصیل کے ساتھ جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دعویٰ کے مقابلہ میں کیا ہے ) تو تم پر خود عیاں ہو جائے گا کہ تمہارے ہاتھ میں اس وقت جو آسمانی کتب ہیں وہ ضرورت زمانہ کو پورا نہیں کرتیں۔آج کے زمانہ کی ضرورت کو صرف قرآن کریم پورا کرتا ہے اور سورۂ فاتحہ میں اس قسم کی معرفت اور حکمت کی باتیں اور اسرار روحانی بیان ہوئے ہیں کہ تمہاری کتب مل کر بھی اس قسم کے علوم اپنے اندر نہیں رکھتیں۔چنانچہ انہوں نے اپنی جور پورٹ شائع کی ہے اس میں اس چیلنج کا بھی ذکر کیا ہے۔غرض دنیا کو مقابلہ کی دعوت دی گئی تھی اور دنیا سے مراد یہ نہیں کہ ہر کس و ناکس کھڑا ہو کر کہے کہ مجھ سے مقابلہ کر لو بلکہ دنیا میں مختلف مذاہب یا مختلف مذاہب کے جو مختلف فرقے ہیں ان