خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 687 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 687

خطبات ناصر جلد دوم ۶۸۷ خطبہ جمعہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء کرتا ہے اور انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرتا ہے۔مثلاً بین الاقوامی قرضوں کی بنیا د جیسا کہ اس کتاب نے بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے سود پر ہے سودی قرضے دیئے جاتے ہیں مثلاً دس کروڑ روپیہ قرض دیا اور اس کی میعاد تیس سال مقرر کر دی یعنی وہ بڑی رعایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تیس سال میں واپس کر دینا اور پانچ فیصدی شود دے دینا اور تیس سال پانچ فیصد سود دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہر کروڑ روپیہ پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ شود ادا کیا جائے گا اور سرمایہ اسی طرح باقی رہے گا کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے جان بوجھ کر یہ منصوبہ بنایا ہے تا اقوام عالم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مسلمان کو یہ کہا کہ تعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المآئدة: ۳) اپنے باہمی تعلقات میں وہ اندرونِ ملک ہوں یا بیرونِ ملک ایک دوسرے سے تعاون کرو۔میں نے اس وقت بین الاقوامی تعلقات کی مثال دی ہے اس لئے میں انہی کی روشنی میں اس آیت کے معنے کروں گا کہ تمہارے بین الاقوامی تعلقات نیکی اور تقویٰ کے اصول پر مبنی ہوں اور گناہ یعنی حقوق اللہ کے توڑنے اور زیادتی اور عدوان یعنی حقوق العباد کے توڑنے میں ایک دوسرے کے مد اور معاون کبھی نہ بنا۔غرض حقوق اللہ کو قائم کرنے اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے لئے بین الاقوامی تعلقات مضبوط اور پختہ طور پر استوار کرنے چاہئیں نہ اس لئے کہ اقوام عالم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے۔کیونکہ اللہ کا بندہ صرف ایک کا غلام بن سکتا ہے یعنی اپنے مقصد پیدائش کے لحاظ سے صرف ایک ہی ذات کا انسان غلام بن سکتا ہے اور وہ اللہ کا وجود ہے اور ہر وہ غلامی جو اس غلامی کے علاوہ ہے خدا کی نگاہ میں محبوب اور پیاری نہیں اور نہ انسان کو اس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے اسلام کے اقتصادی نظام میں ہر قسم کی اسیری اور غلامی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔صرف ایک کی غلامی ہے۔عبودیت واحد و یگانہ ہی کے لئے ہے اور اس پر ہم سب کو فخر کرنا چاہیے۔باقی پھر انشاء اللہ۔روزنامه الفضل ربوه ۳۰ جولائی ۱۹۶۹ ء صفحہ ۳ تا ۷ ) 谢谢谢