خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 681
خطبات ناصر جلد دوم ۶۸۱ خطبہ جمعہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء ہر وہ جائز سہولت میسر آنی چاہیے جو اس کی نشو و نما میں محمد اور معاون ہو اور اس کے لئے اسے مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے۔اس کے لئے اسے ایجی ٹیشن کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے ہر چیز اسے میٹر آنی چاہیے جو ان کی ذہنی قوتوں کی نشو ونما کو ان کے کمال تک پہنچانے والی ہوان کی بہترین تعلیم کا انتظام کیا جائے اگر سائنس لی ہے تو بہترین اپریٹس (Apparatus) دیا جائے بہترین لائبریریاں قائم کی جائیں مناسب اور طیب غذا کا انتظام کیا جائے ایک مزدور اور ایک طالب علم کی غذائی ضروریات میں فرق ہے اس فرق کو مد نظر رکھا جائے۔اس کی ذہنی ارتقا کے لئے با اخلاق ماحول ضروری ہے وہ پیدا کیا جائے پھر عقلمند اور ہمدرد اساتذہ ضروری ہیں خود اعتمادی اور عزت نفس پیدا کرنے کے لئے سینکڑوں وسائل ہیں جو انہیں میتر آنے چاہئیں تا کہ ہمارا بچہ، ہمارا ایک مسلمان بچہ ( میں اس وقت اسلام کے اقتصادی نظام کے متعلق بات کر رہا ہوں ) پوری طرح خود اعتمادی رکھنے والا ہو۔اس میں عزت نفس ہو، وہ با اخلاق ہو، جو ہمدردانہ اور مشفقانہ سلوک اس نے اپنے اساتذہ سے پایا وہی ہمدردانہ اور مشفقانہ سلوک وہ آگے پہنچانے والا ہو اس کی غذائی ضرورتیں جو تعلیم کے لحاظ سے ضروری ہیں اسے میتر آنی چاہئیں مثلاً کوکا کولا یا سیون آپ کی بجائے طالب علم کو دودھ پینا چاہیے اتنی رقم اگر وہ دودھ پر خرچ کرے اور وہ اس کو ہضم کر سکتا ہو ( کیونکہ بعض انسان دودھ ہضم نہیں کر سکتے ) تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اگر کوئی شخص دودھ ہضم نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے بعض ایسی چیزیں پیدا کی ہیں کہ اگر وہ دودھ میں ملا دی جائیں تو وہ ہضم ہو جاتا ہے مثلاً سونٹھ کی گٹھی ہے رَبَّةُ البَيْت جب دودھ کو ابالنے کے بعد رکھتی ہے تو اگر وہ اس میں سونٹھ کی ایک گٹھی ڈال دے تو ایک تو دودھ پھٹے گا نہیں ، دوسرے اس کا وہ بچہ بھی اس دودھ کو ہضم کر لے گا جو عام طور پر اسے ہضم نہیں کرتا۔اس کا پیٹ خراب ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ بھی بہت سے طریق ہیں جن کو اختیار کر کے دودھ کو ہضم ہونے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔بہر حال ایک طالب علم کو مناسب اور طیب غذ املنی چاہیے اسے مناسب ماحول ملنا چاہیے اسے با اخلاق ماحول ملنا چاہیے اساتذہ کا انتخاب سفارشوں کی بجائے ان کے استاد ہونے کی اہلیت اور تربیت کرنے کی اہلیت کی بنا پر کرنا چاہیے تا کہ طلبہ میں خود اعتمادی پیدا