خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 674 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 674

خطبات ناصر جلد دوم ۶۷۴ خطبہ جمعہ ۶ / جون ۱۹۶۹ ء بندوں کی بدصورتی کے اظہار کے لئے اپنی تقدیر کو ظاہر کرتا ہے۔پس ان بندوں کی بدصورتی کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس صورت میں ظاہر ہوئی کہ انہوں نے امیروں کو قتل ہی کر دیا اور ایک بڑا ظالمانہ رویہ اختیار کیا۔اسلام اس ظلم کو برداشت نہیں کر سکتا جس طرح اس چیز کو برداشت نہیں کرسکتا کہ غریب پر ظلم ہو کیونکہ اسلام کی نگاہ میں جیسے ایک امیر خدا کی مخلوق ہے ویسے ہی ایک غریب بھی اس کی مخلوق ہے اور جیسا کہ ایک غریب اس کی مخلوق ہے ویسا ہی ایک امیر بھی اس کی مخلوق ہے ہر دو کے حقوق کی حفاظت اسلام اور اسلام کا اقتصادی نظام کرتا ہے لیکن نہ سرمایہ داری کا عمل اور نہ اشتراکیت کا طریق یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہر انسان کے حق کو اس نے قائم کرنا اور ادا کرنا ہے اور نہ اس پر پورا اُترتا ہے۔اس کے مقابلے میں خدا تعالیٰ کی عبودیت کے پہلے تقاضے کا جلوہ ہمارے سامنے اسلام کا اقتصادی نظام یہ پیش کرتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں ہرانسان میں جو قوت اور استعداد پائی جاتی ہے رب العلمین نے اس کی صحیح اور کامل نشو ونما کی ذمہ داری لی ہے کوئی دوسرا نظام اس قسم کی ذمہ داری نہیں لیتا۔پس اسلام کا اقتصادی نظام مستقل حیثیت میں ارفع اور اعلی شکل میں دنیا میں قائم ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے جتنے تقاضے ہیں انہیں پورا کرنے والا ہے۔پہلا تقاضا یہ تھا کہ صفات باری تعالیٰ کے جلوے نظر آئیں کیونکہ اسلام جو تو حید کو قائم کرنے والا ہے اس کے تمام احکام خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے ظاہر کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے سامان پیدا کرنے والے ہیں اس کی کوئی تعلیم ایسی نہیں جو توحید سے دور لے جانے والی ہو اس کی ہر تعلیم توحید کے قریب لے جانے والی ہے۔غرض یہ اپنی نوعیت کا اکیلا ہی نظام ہے کوئی دوسرا نظام اس کے مقابلے پر نہیں آسکتا اور بعض لوگ جو اسلام کی خوبیوں سے واقف نہیں وہ بعض دوسرے نظاموں کی خوبیوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں وہ اسلام پر کسی دوسری چیز کا پیوند لگانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اگر سونے پر پیتل کا پیوند لگایا جائے تو وہ سونے کی قدر و منزلت کو دو بالا نہیں کر سکتا۔اسلام کا نظام تو ایک سونا