خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 668 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 668

خطبات ناصر جلد دوم ۶۶۸ خطبہ جمعہ ۶ / جون ۱۹۶۹ء پس اسلام کا اقتصادی نظام صرف یہ نہیں کہتا کہ ایسے طالب علم کو صرف زندہ رکھنا ہے اسلام کا اقتصادی نظام یہ کہتا ہے کہ ایسے طالب علم کی خدا داد قوت اور استعداد کی نشوونما کو کمال تک پہنچانے کے لئے جو بھی اس کی ضرورت ہے وہ پوری کرنی ہے پھر آگے جا کر اس کے لئے یہ انتظام بھی ہونا چاہیے کہ وہ میڈیکل کالج میں داخل بھی ہو سکے پھر یہ انتظام بھی ہونا چاہیے کہ بعد میں Research میں اگر اس کا دماغ چلتا ہے تو اس کی انتہا تک پہنچ جائے۔خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی قوموں کے درمیان مقابلے اور مسابقت کی روح پیدا کی ہے ان میں سے بعض مقابلے جائز اور اچھے ہیں بعض برے بھی ہیں ان کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے لیکن اچھی باتوں میں ہم نے بہر حال مقابلہ کرنا ہے جب تک یہ انتظام نہ کیا جائے اس وقت تک ہم ان قوموں سے جو دنیا کے ہر میدان میں اس وقت ہم سے آگے نکلی ہوئی ہیں مقابلہ نہیں کر سکتے۔اسلام کے اقتصادی نظام پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم ان سے مقابلہ کر سکتے ہیں کیونکہ جن برائیوں میں وہ پھنسے ہوئے ہیں اسلام کا اقتصادی نظام ہمارے نوجوانوں کو ان میں نہیں پھنسائے گا۔غرض اسلام کا اقتصادی نظام اس بنیاد پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اس کی قوتوں اور استعدادوں کو بھی پیدا کیا ان قوتوں اور استعدادوں کے مطابق سامان بھی پیدا کئے اور پھر ان کی نشو ونما کو کمال تک پہنچانے کے سامان بھی پیدا کئے۔اسلام کا اقتصادی نظام صفات باری کے پر تو کے نیچے ہر انسان کا یہ حق تسلیم کرتا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے تو کوئی چیز پیدا نہیں کی پھر ہمیں یہ بتایا کہ چونکہ ایک طرف ہر ایک کو ایک قوت دی اور اس قوت کی صحیح نشو و نما کے لئے ہر قسم کے سامان دیئے تو دوسری طرف مختلف انسانوں کو مختلف قو تیں دے کر ایک تفاوت پیدا کر دیا اور یہ تفاوت ابتلا اور امتحان کے لئے پیدا کیا۔اسلام کے نزدیک کسی کا مالدار ہو نا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے نہ کسی کا غریب ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے بڑا ناراض ہے بلکہ ہر دوکو اللہ تعالیٰ نے ایک امتحان اور ابتلا میں ڈالا اگر وہ اس پر پورا اُترے تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی جنت کے سامان پیدا کر دیئے ہر قسم کی رضائے الہی کے سامان یعنی اس دنیا کی زیادہ سے زیادہ نشو ونما اور