خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 667
خطبات ناصر جلد دوم ۶۶۷ خطبہ جمعہ ۶ رجون ۱۹۶۹ء ہو جاتے ہیں۔اسلام کا اقتصادی نظام ہمیں یہ کہتا ہے کہ تمہارا یہ فرض ہے کہ تم دیکھو کہ بچے کو صرف زندہ رہنے کے لئے غذا نہ ملے بلکہ اسے اس کے اس ذہنی رجحان کے مطابق غذا دو تا وہ صحت مند ڈاکٹر بنے۔جس کے لئے دوسرے مضمونوں سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور اچھے ذہن کو اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے محنت بہر حال زیادہ کرنی پڑتی ہے اس واسطے دماغی کام جتنا بوجھ اس پر ڈال رہا ہے اسے اسی قسم کی غذا ملنی چاہیے ایک شخص مثلاً سارا دن ہل چلاتا ہے وہ اپنی طبیعت اور جسمانی کام کی وجہ سے زیادہ آٹا استعمال کر کے اپنی صحت کو برقرار رکھتا ہے لیکن کالج کے ایک طالب علم کو جو کلاس کے علاوہ دس پندرہ گھنٹے کام کر رہا ہو اس کو وہی آٹا دے دیں تو وہ اپنی صحت کو برقرار نہیں رکھ سکتا بلکہ وہ شاید اور زیادہ بیمار ہو جائے کیونکہ اسے اور قسم کی غذا کی ضرورت ہے۔پس اسلام کا اقتصادی نظام یہ کہتا ہے کہ ایسے طالب علم کو اس کی ضرورت کے مطابق غذ املنی چاہیے۔میں ایک دفعہ اپنے کالج کے دفتر سے گھر کی طرف جارہا تھا راستے میں مجھے ایک طالب علم ملا جس کے متعلق مجھے علم تھا کہ وہ بڑا محنتی اور ہوشیار طالب علم ہے کوئی مہینے ڈیڑھ تک یونیورسٹی کے امتحان ہونے والے تھے میں نے دیکھا کہ اس کا منہ رنگ زرد اور منہ پر دھبے پڑے ہوئے ہیں بیمارشکل ہے یہ دیکھ کر مجھے بڑا سخت صدمہ پہنچا کہ میں نے اس کی صحت کا خیال نہیں رکھا ویسے وہ عام کھانا تو کھا رہا تھا لیکن ایسے کھانے پر اسلام کا اقتصادی نظام نہیں ٹھہرتا۔میں نے سوچا کہ میں نے ظلم کیا کشتی رانی کرنے والے طلبہ کو تو میں سویا بین کا حلوا دیتا ہوں لیکن جو دن رات محنت کرنے والے طلبہ ہیں ان کو میں سویا بین کا حلوا نہیں دیتا میں نے تو بڑی غلطی کی۔چنانچہ اس کو تو میں نے کہا کہ مجھ سے سویا بین لے جا کر استعمال کرنا ( لیکن بعد میں میں نے تمام محنتی طلبہ کوسو یا بین دینے کا انتظام کر دیا ) پہلے اسے مناسب حال غذا نہیں مل رہی تھی اب جب اسے مناسب حال غذ املی تو پندرہ دن کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے کے دھبے دور ہو گئے چہرے پر سرخی آگئی آنکھوں میں زندگی اور توانائی کی علامات نظر آنے لگیں اور وہ امتحان میں بڑی اچھی طرح سے پاس ہوا اچھے نمبر تو وہ ویسے بھی لے لیتا لیکن یہ بھی ہوسکتا تھا کہ ساری عمر کے لئے وہ بیمار پڑ جا تا کئی ایسے عوارض اسے لاحق ہو جاتے جن سے چھٹکارا پانا اس کے لئے ناممکن ہو جاتا۔