خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 658
خطبات ناصر جلد دوم ۶۵۸ خطبہ جمعہ ۳۰ رمئی ۱۹۶۹ء پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں تمہارے آرام کے لئے مختلف قوتیں اور مختلف استعدادیں دی ہیں تا تم ایک دوسرے کے خادم بنو، ایک دوسرے کے کار برآر بنو اور ایک کے اوپر ہی سارا بوجھ نہ آ پڑے اور اس طرح پر بنی آدم کی مہمات اور اس کے روحانی اور جسمانی کاموں میں آسانی پیدا ہو جائے۔مثلاً روحانی کام یہ ہے کہ انسان رات کو اٹھ کر عبادت کرتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اندھیرے میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔اب چاہے دیا ہی ہو یا بجلی کی روشنی اس میں بہر حال دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان باتوں کی حکمت اور فلسفہ کو سمجھتے نہیں اور جس غرض کے لئے یہ تمام کارخانہ مختلف قوتوں اور استعدادوں کا بنایا گیا ہے اس کے نتیجہ میں تم اپنے آپ کو خادم سمجھنے کی بجائے آقا سمجھنے لگ جاتے ہو اور ایک دوسرے کو حقارت اور استہزاء سے دیکھنے لگ جاتے ہو۔لیکن ہم تم کو یہ بتاتے ہیں کہ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ اس میں بڑے لطیف پیرایہ میں اسلام کے اقتصادی نظام کی فوقیت دوسرے تمام اقتصادی نظاموں پر ظاہر کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ظالمانہ اور مفسدانہ نظام معیشت اور اقتصادیات تم اپنے سرمایہ یاوحشیانہ قوت سے دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہو اس کی نسبت رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ تمہارے ربّ کی رحمت بہتر ہے۔اس آیت سے پہلے قرآن کریم کا ذکر آیا ہے جس کی وجہ سے اعتراض ہوا تھا۔اسی کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے اور رحمت ربك سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم ، اس کی تعلیم اور ہدایت زیادہ تر نفع رساں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔میں اس وقت اپنے الفاظ میں وہ تفسیر بیان کروں گا۔اور ایک، دو، تین کر کے بیان کروں گا تا کہ جو مختلف پہلو ہیں وہ نمایاں ہو جائیں۔تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہے۔الفاظ میرے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ ا۔انسان کی فطرت اور طبیعت میں یہ ہے کہ وہ مل جل کے زندگی گزارے اور ایک دوسرے کی مدد اور معاونت کے بغیر اس کا کوئی کام انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔جیسا کہ میں نے ابھی مختصراً اشارہ کیا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے۔۲۔اگر ہمیں ایک دوسرے کی مدد، معاونت اور تعاون کی ضرورت ہے تو اس کے نتیجہ میں