خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 55
خطبات ناصر جلد دوم ۵۵ خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۶۸ء ہو تو اس کا دل اپنے رب کے خوف سے کانپ اُٹھتا ہے اور یہ حقیقت اس پر آشکار اور نمایاں ہو جاتی ہے کہ خدا کا غضب ایک ایسی آگ ہے جو جلا کے رکھ دیتی ہے اس کے ساتھ ہی جب اللہ تعالیٰ کی جمالی صفات کا اس پر جلوہ ظاہر ہوتا ہے اور محسن کی تجلی اس پر ہوتی ہے تو اس کا دل اپنے رب کی محبت سے بھر جاتا ہے ان دو جلوؤں کے بعد وہ اپنے رب کو سچے معنی میں پہچاننے لگ جاتا ہے اور اپنے رب کی قدر جو اس کے دل میں ہونی چاہیے وہ پیدا ہو جاتی ہے ورنہ دوسروں کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ مَا قَدَرُوا اللهَ حَقٌّ قَدْرِهِ (الحج : ۷۵) جنہوں نے اس کی ذات اس کے جلال اور جمال کا مشاہدہ نہیں کیا وہ اس کی قدر کو کیا جانیں۔لیکن جب ایک مسلمان اپنے رب کی جلالی اور جمالی صفات کا اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتا ہے اور اس یقین پر قائم ہو جاتا ہے اور اس حقیقت کو پالیتا ہے کہ اس قادر و توانا کی ناراضگی ایک لحظہ کے لئے بھی برداشت نہیں کی جاسکتی تو تمام گناہوں سے وہ نجات پاجاتا ہے ہر اس چیز کے کرنے سے اس کی روح اور اس کا جسم کانپ اٹھتا ہے جس کے کرنے کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا غرض ایک ہی جلوہ جلالی صفات کا جب ظاہر ہوتا ہے تو ہر قسم کے گناہوں سے نجات دلاتا ہے بشرطیکہ معرفت کامل اور حقیقی ہو اور اُدھوری نہ ہو اور جب اللہ تعالیٰ کے حسن کو انسان دیکھتا ہے تو اس کی محبت سے دل لبریز ہو جاتا ہے اور اس محبت الہی کے سمندر میں وہ غرق ہو جاتا ہے اور محبت کی آگ جسمانی خواہشات کو جلا کر رکھ دیتی ہے وہ ہر ممکن کوشش ( اپنی فکر اور تدبر اور اپنے عمل سے ) کرتا ہے کہ اپنے اس محبوب اور مطلوب کو اور اس کی رضا کو حاصل کر لے اور وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ حقیقی لذت اور سرور خدا تعالیٰ کی محبت ہی میں ہے۔تب وہ نجات پاتا ہے کیونکہ تب اسے حقیقی اور سچی خوشحالی نصیب ہوتی ہے اور اس کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو ایک لگن لگائی ہے کہ اس کا تعلق پختہ طور پر اس کے پیدا کرنے والے کے ساتھ قائم ہو جائے وہ مقصد اس کو حاصل ہو جاتا ہے۔پس حقیقی نجات کے لئے معرفت اور عرفان کا ہونا ضروری ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی صفات کی اور اس کی ذات کی معرفت اور اس کے جلال اور جمال کے جلوے انسان کو حاصل ہو جاتے ہیں تو وہ گناہ سے زیادہ ڈرنے لگتا ہے جتنا اس پیالہ سے جس کے متعلق اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کے اندر مہلک زہر گھلا ہوا