خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 648
خطبات ناصر جلد دوم ۶۴۸ خطبه جمعه ۲۳ مئی ۱۹۶۹ء کے اجرا کے ساتھ (جو یقیناً الہی تحریک ہے) بڑی کثرت سے مختلف ممالک میں جماعت ہائے احمد یہ قائم ہوئیں۔پھر ان کی تربیت ہوئی اور اب آپ سے ( جو مرکز میں رہنے والے ہیں یا مرکز جس ملک میں ہے وہاں کے باشندے ہیں) وہ کسی صورت میں بھی پیچھے نہیں ہیں۔یہاں بھی کمز ور احمدی پائے جاتے ہیں غیر ممالک میں بھی کمزور احمدی پائے جاتے ہیں لیکن جس رنگ کا اخلاص، فدائیت اور بے نفسی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق ہمیں جماعت احمدیہ کی بھاری اکثریت میں یہاں نظر آتا ہے اسی طرح بیرون ملک کی جماعتوں میں بھی ہمیں نظر آتا ہے۔پھر جس طرح ہماری حقیر قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ہم سے پیار کرتا اور اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے اسی طرح ان لوگوں سے بھی وہ اپنی محبت اور پیار کا اظہار کرتا ہے۔ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں رہا۔آج تو یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جو ہمیں نظر آ رہی ہے لیکن ۱۹۳۴ء میں یہ ایک ایسا تخیل تھا کہ اگر آج کی تصویر لوگوں کے سامنے رکھ دی جاتی تو ان کی اکثریت اس کی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہوتی مگر اس مرد اولوالعزم نے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے یہ کام شروع کیا اور خدا تعالیٰ نے اس میں بڑی برکت ڈالی۔تیسری نمایاں چیز جو ہمیں تحریک جدید کے کام میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ غیر مذاہب کو اس کی وجہ سے اور اس کے کاموں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور وہ جو اپنی جہالت اور عدم علم کی وجہ سے اسلام کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔آج وہ اسلام کے عقلی دلائل اور اسلام کی تاثیرات روحانیہ اور تائیدات سماویہ سے مرعوب ہو رہے ہیں۔ایک انقلاب عظیم بپا ہو گیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ابھی بہت سا کام کرنا ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اس عظیم انقلاب کی ابتدائی شکل ظاہر ہوگئی ہے۔اس کی تعمیل میں کچھ وقت لگے گا یعنی جب ہم ان اقوام کے دل اپنے اور ان کے رب کے لئے جیت لیں گے اور ساری دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جانے لگے گا اور اسلام مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے گا۔بہر حال اس انقلاب عظیم کے آثار ہمیں نظر آ رہے ہیں اور یہ بھی حیران کن ہیں۔انقلاب مختلف مدارج میں سے گزرتا ہے۔ایک دور اس کا یہ ہے اور وہ بھی عقل کو حیرانی میں ڈالنے والا ہے