خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 643 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 643

خطبات ناصر جلد دوم ۶۴۳ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء ہزار میں ایک آدھ فرد کے ہوتے ہیں۔یہ وہم نہ رہے کہ کسی کی غفلت یا شستی استثنائی حالات پیدا کر دے گی۔غفلتیں اور سُستیاں استثنائی رعایتوں کا مستحق نہیں بنایا کرتیں۔ہاں شاید وہ بعض افراد کو استثنائی سزاؤں کا مستحق بنا دیں۔پس اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کہ تمہارے وعدہ کے متعلق تم سے جواب طلبی کی جائے گی۔خدا سے ڈرتے ڈرتے اپنے وعدوں کی ادائیگی کی طرف توجہ دینی چاہیے۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا اگر ایک شخص کے حالات حقیقتاً اس طرح بدل گئے ہیں کہ وہ اپنے وعدہ کو پورا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی اس پر کوئی الزام نہیں اور ہمارے دلوں میں بھی اس کے خلاف کوئی شکوہ نہیں لیکن جو لوگ شستی کے پردوں کے پیچھے پناہ لینا چاہتے ہیں انہیں یا درکھنا چاہیے کہ مستیوں کے پردے دنیا کی آنکھ سے بعض چیزوں کو اوجھل کر دیں تو کر دیں خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے نہیں بچا سکتے۔تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ زیادہ مستعدی سے اپنے پروگراموں کی طرف متوجہ ہوں اور بحیثیت مجلس اپنے اندر ایک فعال زندگی پیدا کریں۔ہر دو مجالس کا ایک حصہ بڑا ہی اچھا کام کر رہا ہے اور قابلِ رشک ہے۔اگر خدام الاحمدیہ ہیں تو وہ انصار اللہ کے لئے قابل رشک ہیں اور انصار ہیں تو جماعت کے لئے قابل رشک ہیں۔خدا کے لئے فدا ہونے والی اور اپنے نفسوں اور اموال کو فدا کرنے والی زندگیاں ہیں جو وہ گزار رہے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو دنیا کے غلط اصول کے مطابق تینتیس فیصد کام کر کے کامیاب ہونے کی اُمید رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں گناہوں کی معافی کا وعدہ تو دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ لوگ جن کی بدیاں اور جن کے گناہ ان کی نیکیوں اور اعمال صالحہ کا احاطہ کر لیں گے انہیں بہر حال جہنم کی تکلیف میں سے گزرنا پڑے گا۔اگر اللہ تعالیٰ معاف کرنا چاہے تو یہ اس کی شان اور قدرت ہے وہ اس کا بھی مظاہرہ کرتا ہے اور ہمارے دلوں میں اپنی محبت اور عظمت کو اس طرح بھی قائم کرتا ہے لیکن اس نے ایک عام اصول یہ بنایا ہے کہ اگر گناہ اور بدیاں نیکیوں اور اعمال صالحہ کو اپنے احاطہ میں لے لیں تو جہنم کی تکلیف میں سے گزرنا پڑے گا۔اگر آپ جیومیٹری کی ایک شکل کے ذریعہ اس احاطہ کو سمجھنے کی کوشش کریں