خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 604 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 604

خطبات ناصر جلد دوم ۶۰۴ خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء انعامات کو اپنے علم یا اپنے زور یا اپنی فراست یا اپنے تجربہ یا اپنے مال کا نتیجہ سمجھتا ہے تو خدا کہتا ہے تم غلطی پر ہو۔یہ میرا انعام تھا اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے کسی زور یا تجربہ یا محنت یا علم کے نتیجہ میں تمہیں ملا ہے تو دیکھو میں ایک اور فیصلہ صادر کرتا ہوں اور یہ مال تم سے چھین لیتا ہوں وَنَقْصٍ مِنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَتِ ) (البقرة : (۱۵۶) مومنوں کا امتحان ہوتا ہے۔کمزوروں کی کمزوری دور کرنے کا طریق اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار کیا ہے کہ وہ انہیں آزماتا ہے۔دیکھو اب گندم تیار تھی زمیندار بڑے خوش تھے کہ بڑی اچھی فصل ہے۔حکومت کا خیال تھا کہ شاید پچھلے سال سے دس لاکھ ٹن گندم زیادہ ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ گندم دینا یا گندم کو روک لینا میرے اختیار میں ہے۔بے شک تمہاری مصنوعی کھا دیں اور تمہارے نئے بیج استعمال کئے گئے اور یہ ٹھیک ہے کہ یہ چیزیں میرے دیئے ہوئے علم کے مطابق پیدا کی گئی ہیں لیکن ان کا نتیجہ نکالنا بھی اسی طرح میرے ہاتھ میں ہے جس طرح ان چیزوں کا بنالینا میرے دیئے ہوئے علم کے نتیجہ میں ہے۔میری پیدا کی ہوئی اشیا کے نتیجہ میں ہے۔لاشیء محض سے کوئی یہ چیزیں پیدا نہیں کر سکتا۔و یکم (Vacuum) اور خلا میں سے تو انسان کوئی چیز نہیں پیدا کر سکتا ہاں خدا کی پیدا کردہ مختلف اشیا کی شکلیں بدلنے کا اس کو اختیار دیا گیا ہے اور اس قانون کے مطابق اختیار دیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہے اور جس قانون کو انسان بدل نہیں سکتا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کو استعمال کرنے کے بعد انسان اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اشیا سے فائدہ حاصل کرتا ہے تو وہ فخر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے اپنے علم ، اپنے زور، اپنے تجربہ اور انوسٹمنٹ (Investment) یعنی سرمایہ لگانے کے نتیجہ میں کھاد بنائی۔میں نے ٹیوب ویل لگائے، میں نے نئے بیج نکالے اور اب ان چیزوں کے نتیجہ میں مجھے بڑی مقدار میں گندم مل جائے گی لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ بات میرے اختیار میں ہے کہ میں جس رنگ میں چاہوں نتیجہ نکالوں۔چند دن ہوئے میرا اندازہ ہے کہ پندرہ بیس منٹ کے لئے ژالہ باری ہوئی اور بعض زمینداروں کے کھیت اس طرح صاف ہو گئے کہ گویا وہاں گندم بوئی ہی نہ گئی تھی۔پھر کسی کا روپیہ میں سے بارہ آنے نقصان ہوا کسی کا آٹھ آنے نقصان ہوا۔کسی کا چار آنے نقصان ہوا۔بہر حال