خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 595 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 595

خطبات ناصر جلد دوم ۵۹۵ خطبہ جمعہ ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء باپ اس قسم کا بے تکلف ماحول پیدا کرے گا جس طرح بادشاہ نے پیدا کیا تھا کہ اپنے بچے کو پیٹھ پر بٹھا لیا اور کمرے میں دوڑ رہے ہیں۔اس صورت میں بچہ کوئی چیز نہیں چھپائے گا اور جب ظاہر کرے گا تب ہی تو وہ اس کا حساب بھی لے سکے گا نا! یعنی محاسبہ کر سکے گا کہ یہ اس کے اندر بری چیز ہے اس کو اب روکنا چاہیے۔یہ اس کے اندر اچھی چیز ہے لیکن ابھی پوری طرح نمایاں نہیں ہوئی اس لئے اس کو اُجاگر کرنے کے لئے اسے کوشش کرنی چاہیے۔پھر اور ہزار قسم کے محاسبے ہیں۔محاسبہ حکومت بھی کرتی ہے یہ تو اس کی ذمہ داری ہے لیکن لكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مُسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ راعی بننے کے لئے محاسبہ کرنے کی صفت اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے جس کے لئے علیم ہونا بڑا اضروری ہے۔یہ جو کہتے ہیں کہ محتسب را درون خانه کار چه اس کا مطلب یہی ہے کہ جو درون خانہ نہیں ہے وہ چیز اس کے علم میں آنی چاہیے ورنہ تو وہ اپنا کام نہیں کر سکتا لیکن جو درونِ خانہ ہی محتسب ہے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے وہ ماں باپ ہیں ان کو اپنے گھر کے پورے ماحول کا علم ہونا چاہیے تا کہ کسی گند کا دروازہ ان کے گھر میں نہ کھلے۔پس عبادت کا یہ تقاضا ہزار قسم کی ذمہ داریاں ہم پر ڈالتا ہے کہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ کی رُو سے حساب اور محاسبہ اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونا چاہیے۔اس طرف بھی ہمیں بڑی توجہ دینی چاہیے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ تربیت محاسبہ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔مثلاً ہم نے خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں دیکھا ہے ہم نوجوانوں کی تربیت کرتے ہیں کہ وہ قرآن پڑھیں۔ان میں اچھے اخلاق پیدا ہوں۔بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ایک قائد اپنے تیس، چالیس یا پچاس ،سو خدام کا محاسبہ کرتا ہے ایک دوسرا خادم ہے وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتا۔اس کو پتہ نہیں میں نے ان نو جوانوں سے کام کیسے لینا ہے۔نہ ان کی عادات سے واقف، نہ ان کی استعداد سے واقف ہے تو محاسبہ کس طرح کر سکتا ہے۔محاسبہ تو علم کے بغیر نہیں ہو سکتا تو جس حد تک انسان کے لئے دائرہ حساب کے اندر معلومات کا حصول ممکن ہو اس حد تک اسے ضرور معلومات حاصل کر لینی چاہئیں۔اس کے بغیر وہ ذمہ داری کو ادا نہیں کر سکتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قائد یا سائق یا زعیم کا خدام