خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 590
خطبات ناصر جلد دوم ۵۹۰ خطبہ جمعہ ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء محبت نہیں ہوتی بلکہ خدا کے لئے اپنے دین کو ، اپنی تدبیر کو وہ خالص کر رہے ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم تمہیں ایک راستہ ایسا بتاتے ہیں کہ تم تمام جائز دنیوی تدابیر کو دینی رنگ دے سکتے ہو اور میری رضا کو ان کے ذریعہ سے حاصل کر سکتے ہو لیکن جو شخص تدبیر میں خلوص نیت کے تقاضا کو پورا نہیں کرتا وہ خدا کو راضی نہیں کر سکتا ہر کام میں مقصد یہ ہو کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔کام کرنا ہے نکما نہیں بیٹھنا لیکن کام اس نیت سے کرنا ہے کہ میں خدا کو راضی کرنا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ مجھے نیچے پھیلا ہوا ہاتھ پسند نہیں جو ہاتھ اوپر ہے یعنی دینے والا ہاتھ وہ مجھے پسند ہے جو منگتا ہاتھ ہے وہ مجھے پسند نہیں۔ایک شخص ایک کلہاڑی اور رشی لیتا ہے اس کے مخلص دوست اسے ہر چیز مفت دینے کو تیار ہیں لیکن وہ کہتا ہے نہیں مجھے ایک کلہاڑی اور ایک رتی مہیا کر دیں اور وہ بھی مفت نہیں لوں گا بطور قرض دے دیں کیونکہ مجھے قرض کی ضرورت ہے۔میں خود کماؤں گا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوں گا۔اس کا لکڑیاں کاٹنا اور ان کا گٹھا بنا کے بازار میں لے جا کر بیچنا یہ ایک عام تد بیر نہیں جو محض دنیا کے لئے اور پیٹ کی خاطر کی جاتی ہے بلکہ یہ ایک ایسی تدبیر ہے کہ اس کے بجالانے میں ہر حرکت وسکون خدا کو بڑا پیارا ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم میں سے جن لوگوں نے خدا کی رضا کے لئے قرض لے کر ایک رشی کا ٹکڑا اور کلہاڑی لی تھی۔اللہ تعالیٰ نے قیصر و کسری کے خزانے ان کے قدموں میں لا ڈالے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے رزق کمانے میں خدا کے لئے خلوص نیت کا جو مظاہرہ کیا تھا وہ خدا تعالیٰ کو کتنا پیارا لگا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر کی اور کہا کہ رزق کی کمائی میں تم نے اپنی تدبیر کو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کی روشنی میں کیا ہے۔مجھے تمہاری یہ تدبیر پسند آئی ہے۔قیصر و کسری نے تو جائز اور ناجائز وسائل سے دولت کو جمع کیا تھا لیکن میں جائز طریق پر وہ ساری دولت لا کر تمہارے قدموں پر رکھ دیتا ہوں۔پس عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکتا جب تک انسان دنیوی تدابیر نہ کرے۔تد بیر کرنا ضروری ہے لیکن جب کوئی تدبیر کرے تو دنیا کی خاطر نہ کرے بلکہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ کی روشنی میں