خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 577 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 577

خطبات ناصر جلد دوم ۵۷۷ خطبہ جمعہ ۱۸ را پریل ۱۹۶۹ء خدا کا حکم اس طرح مانتی ہے کہ اس کو انکار کا اختیار نہیں وہ فرشتوں کی صف میں آکر کھڑی ہوتی ہے۔بہر حال اس مخلوق دنیا میں حکم اللہ ہی کا چلتا ہے اور جس دنیا کا میں ذکر کر رہا ہوں اس میں تو عدم اطاعت کا امکان اور گنجائش ہی نہیں۔خدا تعالیٰ کے قانون نے اس کی مخلوق کو جکڑ رکھا ہے اور اس طرح جکڑا ہے کہ انسانی عقل ششدر اور حیران رہ جاتی ہے کہ اس نے بے شمار صفات ایک ذرہ ناچیز میں پیدا کر دیں اور وہ الہی قوانین کے مطابق خدا تعالیٰ کے حکم اور منشا کے مطابق کام کرتا چلا جاتا ہے۔ابھی ہم نے اٹامک انرجی (ایک ذرہ کے اندر جو طاقت مخفی تھی اس ) کا علم ایک حد تک حاصل کیا ہے لیکن بڑا احمق ہوگا وہ سائنس دان جو یہ سمجھے کہ ذرہ کی طاقت کا سارا علم ہمیں حاصل ہو گیا ہے۔آگے دیکھیں اسے کیا ملتا ہے لیکن بہر حال اتنی بڑی طاقت کو اللہ تعالیٰ کے حکم نے ایک معمولی سے ذرہ کے اندر بند کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے حکم سے اس قسم کے اجرا کا ذکر اپنی ایک فارسی نظم میں بڑے لطیف پیرا یہ میں کیا ہے کہ درخت کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں گاڑ دیا۔اب وہ گھوڑے کی طرح کو د پھر نہیں سکتا ( گھوڑے پر اس نے بعض اور قوانین لگا دیئے ) جن درختوں کو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ تم موسم خزاں میں پت جھڑ کرو گے وہ موسم خزاں میں ہی پت جھڑ کرتے ہیں۔جن درختوں کو اس نے کہا کہ تم موسم بہار میں پت جھڑ کرو گے وہ موسم بہار میں ہی پت جھڑ کرتے ہیں۔یہ نہیں کہ کوئی درخت اپنی مرضی سے اپنے پتے جھاڑ کر اور ننگ دھڑنگ ہو کر دنیا کے سامنے آجائے مثلاً موسم خزاں میں پتے جھاڑنے والے درخت موسم بہار میں آئیں اور کہیں کہ ہم ان درختوں کی طرح جو موسم بہار میں پہلے پتے جھاڑ کر نئے پتے نکالتے ہیں اپنے پتے جھاڑ کر بہار کے موسم میں نیا لباس پہنیں گے اللہ تعالیٰ نے کہا ہم نے جو لباس تمہیں دینا تھاوہ موسم خزاں میں ملتا ہے موسم بہار میں ہم تمہیں وہ لباس نہیں دے سکتے۔بہر حال ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کا حکم جاری ہے انسان نے سائنس میں بڑی ترقی کی ہے لیکن کوئی سائنس دان بھی یہ دعوی نہیں کر سکتا اور نہ کرتا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کے قانون کو تو ڑ کر کچھ حاصل کیا ہے۔خدا تعالیٰ کے قانون کو نہ سائنس دان تو ڑتا ہے اور نہ توڑسکتا ہے۔چاہے وہ خدا کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو۔اگر وہ خدا کو نہ مانتا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے قانون کی بجائے قانونِ قدرت کہہ