خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 571
خطبات ناصر جلد دوم ۵۷۱ خطبہ جمعہ اارا پریل ۱۹۶۹ء محبت ان لوگوں سے ہے جن کے رنگ میں تم رنگین ہونا چاہتے ہو۔اگر تمہارے دل میں اللہ کی خالص محبت اور عبودیت ہو تو پھر تو تم اسی کی نقل کرو گے ، اسی کے اخلاق کو اپناؤ گے اگر انسان اللہ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کر لے تو اس کا ہمارے معاشرہ میں اتنا حسین نتیجہ نکلتا ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں یہ بھی بڑا ہی وسیع مضمون ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ رزاق ہے تو جس رنگ میں اللہ تعالیٰ رزاق ہے اسی رنگ میں انسان کو جس حد تک خدا تعالیٰ نے اسے توفیق دی ہے رزاق بننا چاہیے۔اب اللہ تعالیٰ رزاق ہے ابو جہل کو بھی رزق دے رہا تھا اس کو بھوکا نہیں مارا بلکہ ایک وقت میں مسلمانوں کو بھوک کے امتحان میں سے گزارا اور ان پر سختیاں آئیں مگر ان لوگوں کو اس زمانہ میں اس امتحان میں نہیں ڈالا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنا انتقام لیا اس وقت مکہ والوں کو قحط کے امتحان میں ڈالا اور مومن اور کافر میں ایک امتیاز پیدا کیا کہ جب ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو طاقت ملی انہوں نے مسلمانوں کو بھوکا رکھا اور ان کے لئے قحط کے آثار پیدا کئے۔لیکن جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو طاقت ملی آپ کسی کو بھوکا نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ یہ بات خدا تعالیٰ کی سنت اور اس کے اخلاق اور صفات کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ان کے اخلاق ظاہر ہونے چاہئیں کہ واقعہ میں میری صفات سے متصف اور میرے ہم رنگ بن رہے ہیں۔خدا نے مکہ والوں کے لئے آسمانی حوادث کے نتیجے میں قحط کے آثار پیدا کئے اور پھر وہ جن کے لئے مکہ والوں نے قحط کے سامان پیدا کئے تھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مکہ والوں کے لئے رزق کے سامان پیدا کئے۔پھر ہم مثلاً جزا دیتے ہیں، بدلہ دیتے یا سزا دیتے ہیں جزا سزا دونوں اکٹھے چلتے ہیں بعض دفعہ ہمیں گھر میں بچوں کو سزا دینی پڑتی ہے، کان کھینچنے پڑتے ہیں جو منصف ہوں ان کو اپنے عہدے کی وجہ سے کسی نتیجہ پر پہنچ کر فیصلہ کرنا پڑتا ہے، سزا دینی پڑتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ جس رنگ میں اس دنیا میں ظاہر ہو رہی ہے وہی رنگ اپنے اندر پیدا کرو۔جب تمہیں مالک بنے کی توفیق یا موقع ملے تو اس وقت اس بات کا خیال رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے فرمایا ہے کہ ہم تو عذاب اس لئے دیتے ہیں کہ یہ شیطان