خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 561 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 561

خطبات ناصر جلد دوم ۵۶۱ خطبہ جمعہ ۱٫۴ پریل ۱۹۶۹ء دنیا سے رخصت ہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں وہی جزا دے گا جو اس نے ان لوگوں کے لئے مقدر کی ہے جن کو اس کی طرف سے سارا قرآن کریم ناظرہ پڑھنے اس کا ترجمہ سیکھنے اور اس کی تفسیر جاننے کی توفیق ملی کیونکہ جو کوشش بدنیتی کی وجہ سے نہیں بلکہ آسمانی فیصلہ کے نتیجہ میں بظاہر بند ہوتی نظر آتی ہے وہ بند نہیں ہوا کرتی اپنی جزا کے لحاظ سے۔وہ کوشش اور وہ عمل اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور اس کی قدرت کاملہ میں جاری ہی سمجھا جاتا ہے اور اسی کے مطابق ہمارا رب اپنے حقیر اور نا اہل بندوں کو جزا دیا کرتا ہے ورنہ کون انسان ابدی جزا کا مستحق ہوسکتا ہے یہ تو اس کی رحمت کا سلوک ہی ہے کہ اس کے ایک عاجز بندے کو اس کے محدود اعمال کا غیر محدود بدلہ مل جاتا ہے۔پس اس خیال سے مت ڈرو کہ شاید ہم قرآن کریم ناظرہ ختم کرنے سے قبل اس دنیا کو چھوڑ جائیں یا قرآن کریم کا ترجمہ ختم کرنے سے قبل اس دنیا کو چھوڑ جائیں۔اگر آپ نے پہلے غفلت کی ہے تو اس غفلت کے بدنتائج سے بچنے کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ اب آپ جس عمر میں بھی ہوں پوری محنت اور جانفشانی کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھنے اور سیکھنے کی کوشش کریں۔پس ایک تو موصیوں کے صدر اور نائب صدر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے حلقہ کے موصیوں کا جائزہ لے کر ایک ماہ کے اندر اندر ہمیں اس بات کی اطلاع دیں کہ کس قدر موصی قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں اور جو موصی قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں ان میں سے کس قدر موصی قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں اور جو موصی قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں ان میں سے کس قدر قرآن کریم کی تفسیر سکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہر موصی کو ( تینوں معنی میں جن کی تشریح میں پہلے کر چکا ہوں اب دہرانے کی ضرورت نہیں) قرآن کریم آتا ہو اور تیسری ذمہ داری آج میں ہر اس موصی پر جو قرآن کریم جانتا ہے یہ ڈالنا چاہتا ہوں کہ وہ دو ایسے دوستوں کو قرآن کریم پڑھائے جو قرآن کریم پڑھے ہوئے نہیں اور یہ کام با قاعدہ ایک نظام کے ماتحت ہو اور اس کی اطلاع نظارت متعلقہ کو دی جائے۔انصار اللہ کو آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے طوعی اور رضا کارانہ چندوں کی ادائیگی میں مست ہو چکے ہیں (اللہ تعالیٰ آپ کو پست ہو جانے کی توفیق عطا کرے) لیکن مجھے اس کی اتنی