خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 533 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 533

خطبات ناصر جلد دوم ۵۳۳ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء نہ سمجھے اور اس حقیقت پر علی وجہ البصیرت قائم ہو کہ خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کئے بغیر نہ میں نیک اعمال کر سکتا ہوں اور نہ اس کے فضل کے بغیر کسی ظاہری نیک عمل کا اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔عمل کی توفیق بھی اس کے فضل سے ملتی ہے اور عمل کا اچھا نتیجہ بھی اسی کے فضل سے نکلتا ہے۔پس فرمایا کہ اگر تم استغفار کا طریق اختیار کرو اور توبہ کی راہ پر گامزن ہو جاؤ تو اس کے نتیجہ میں تم اپنی زندگیوں میں یہ محسوس کرو گے کہ تمہارا رب قريب مجیب ہے۔وہ محض قریب ہی نہیں کیونکہ قریب تو وہ ہر شے سے ہے بلکہ وہ مجیب بھی ہے۔دو دراصل خدا تعالیٰ کے قرب کے جلوے یا اس کا علم یا اس کی معرفت یا اس پر جو دلائل ہیں وہ اس لئے ہیں کہ انسان ان کے بعد خدائے مجیب کی تلاش کرے کیونکہ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب تو ہر ایک کو حاصل ہے کوئی شے جو اس کی پیدا کردہ ہے ( اور کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کی پیدا کردہ نہ ہو ) وہ اس سے دور نہیں ہو سکتی اس لئے کہ وہ خالق ہے قیوم ہے اور رب ہے۔غرض ایک قسم کا قرب تو ہر شے کو حاصل ہے۔وہ ہر مخلوق (چاہے وہ انسان ہو یا غیر انسان ) کو حاصل ہے۔پھر انسانوں کے دو گروہ ہیں ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جنہیں قہر اور غضب کا قرب حاصل ہے اور یہ قرب ہمیں پسند نہیں۔ہم اس پر راضی نہیں جب ہم سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب تو حاصل ہوا مگر قہر اور اس کے غضب کے کوڑے کے ذریعہ سے تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔کس کی طبیعت چاہتی ہے کہ اسے اس قسم کا قرب حاصل ہو؟ دوسرا گروہ انسانوں کا وہ ہے جنہیں خدا تعالیٰ کی رحمت کا قرب ملتا ہے۔یہ رحمت کا قرب جب کسی انسان کو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے تو وہ اس پر نہ صرف قریب ہونے کے رنگ میں اپنی صفات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی وہ مجیب ہونے کے جلوے بھی ظاہر کرتا ہے۔انسان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں انسان کو اس کی ضرورتیں عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے اور متضرعانہ دعاؤں کے نتیجہ میں عطا کی جاتی ہیں۔وہ جو کچھ مانگتا ہے اسے عطا کیا جاتا ہے۔جب تک انسان کا تعلق قریب اور مجیب رب کے ساتھ نہ ہواس وقت تک انسانی فطرت تسلی نہیں پاسکتی۔اس وقت تک انسان کو روحانی مسرتیں حاصل نہیں ہوسکتیں کیونکہ روحانی مستر تیں انسان کو اسی وقت حاصل ہوتی ہیں جب خدا کے قریب ہونے کے