خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 530 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 530

خطبات ناصر جلد دوم ۵۳۰ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء اور ان کی باوفا جماعتوں نے اپنے اپنے زمانہ اور استعداد کے مطابق خدائے قریب ہی کے جلوے نہیں دیکھے تھے بلکہ خدائے مجیب کے جلوے بھی دیکھے تھے اور ان کا اپنے پیدا کرنے والے سے ایک زندہ تعلق پیدا ہو گیا تھا اس کے بغیر وہ قربانیاں دے ہی نہیں سکتے تھے۔اس کے بغیر وہ مقصد حاصل ہی نہیں ہو سکتا تھا جو انبیاء علیہم السلام کی بعثت اور انسان کی پیدائش کا مقصد ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ" پر نگاہ ڈالیں تو عبودیت کا ایک ایسا سمند ر نظر آتے ہیں جس کا تعلق ہمیں اس خدا سے نظر آتا ہے جو ان کے قریب بھی رہا اور جو مجیب بھی تھا۔یعنی وہ سوال کرتے تھے اور یہ جواب دیتا تھا۔وہ مانگتے تھے اور یہ عطا کرتا تھا۔مجیب کے معنی میں یہ دونوں باتیں آجاتی ہیں یعنی اس سوال کا جواب الفاظ میں بھی دینا اور سوال میں جو بھیک مانگی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ فلاں نعمت مجھے عطا کر۔اس مطلوبہ نعمت کا عطا کرنا جو وہ مانگتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت ہی تھی اور جو خدا تعالیٰ انہیں دیتا تھاوہ بھی اس کی رضا اور محبت ہی تھی اور اپنی ساری مخلوق کو اس نے کہا کہ یہ میرے خاص اور محبوب بندے ہیں تم ان کے کام میں لگ جاؤ اور یہ چیز کچے مذہب اور اس کے پیروؤں کی ایک سچی نشانی ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسلام کی غرض اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ انسان کا تعلق اس رب سے ہو جائے جو محض قریب ہے مجیب نہیں تو اس نے نہ اسلام کی حقیقت کو پہچانا ، نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو سمجھا اور نہ مقصد حیات کا اسے کچھ علم ہے۔تمام مذاہب کا یہی مقصد تھا کہ انسان کا تعلق قریب اور مجیب خدا سے ہو جائے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے یہ مقصد اپنے کمال کو پہنچ گیا یعنی کامل تعلق باللہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہو سکتا ہے۔وہ آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی پیروی سے حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔آپ کے بچے متبعین سینکڑوں سالوں سے قریب مجیب رب کے جلوے اپنی زندگیوں میں دیکھتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اس پر فدا ہیں اور قیامت تک یہی ہوتا چلا جائے گا۔فطرت انسانی یہ چاہتی ہے اور اس کے بغیر اس کی تسلی نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنے رب کو اس طرح پہچانے کہ اس کی ذات اور صفات کے دونوں پہلو اس کے سامنے آجائیں۔یعنی ایک قریب