خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 527
خطبات ناصر جلد دوم ۵۲۷ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء خدا تعالیٰ کے سہارے اور ربوبیت کے محتاج ہونے کی وجہ سے اس کے قریب ہے کیونکہ خالق قیوم اور رب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے قریب آتا ہے تا ہر شے کی پیدائش کا جو مقصد ہے وہ پورا ہو۔اس قرب عام میں انسان اور غیر انسان سب برابر ہیں۔اس قرب کے لحاظ سے جس طرح انسان اللہ تعالیٰ کا مقرب ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کے قریب ہے اسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہے اسی طرح ایک بیل ، ایک درخت اور ایک پتھر بھی خدا تعالیٰ کا قرب رکھتا ہے کیونکہ بعد ہلاکت ہے ، بعد فنا ہے۔غرض ہر وہ چیز جو ہلاک شدہ نہیں اور فنا کا طوفان اس پر نہیں چلا وہ بتا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب عام اسے حاصل ہے۔اس میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے انسان اور غیر انسان میں کوئی فرق نہیں لیکن انسانی فطرت اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسی بنائی ہے کہ وہ صرف اس قسم کے قرب سے تسلی نہیں پاتی بلکہ وہ قرب خاص کی خواہش رکھتی اور اس کی متلاشی ہے لیکن اس قرب تک پہنچنے میں ایک اور قرب بھی بیچ میں آجاتا ہے اور یہ دوسری قسم قرب کی اور پھر تیسری قسم قرب کی صرف انسان سے تعلق رکھتی ہے۔دوسری قسم قرب کی جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ کے قہر کا قرب ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کا بندہ بنے اور اس کا مقرب بن جائے۔وہ اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے اور اس سے طاقت پا کر اپنی استعدادوں کو اس کی راہ میں اس طرح ترقی دے اور اپنے خواص کو اس کے نور سے کچھ اس طرح اُجا گر کرے کہ وہ قرب ( بندگی کا قرب) اسے حاصل ہو جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے لیکن بعض انسان اس سے دور بھاگتے ہیں اور جب ایسے انسان اپنے رب سے دور جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کا پیچھا کرتا ہے اور اپنے قہر کے قرب سے ان کو واپس لاتا ہے جس طرح کسی زمانہ میں بھاگنے والے غلام پر کوڑے برسائے جاتے تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے غضب کا کوڑا ایسے لوگوں پر پڑتا ہے اور ان کی واپسی کے سامان پیدا کرتا ہے۔اسی مقرب کی قسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں فرماتا ہے۔وَاللهُ مُحیط بِالكَفِرِین کہ وہ ان لوگوں کو جو اس کے منکر ہیں اور اس کی ذات اور صفات کا علم نہ رکھنے کی وجہ سے اس سے دوری کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں اپنے غضب کا نشانہ بنانے