خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 518 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 518

خطبات ناصر جلد دوم ۵۱۸ خطبہ جمعہ ۲۱ فروری ۱۹۶۹ء کے نتیجہ میں اس کا علم حاصل کیا لیکن جہاں اس نے اس کا ایک حد تک صحیح استعمال کیا یعنی اس نے اسے انسان کے فائدہ کے لئے استعمال کیا وہاں بڑی حد تک اس کا استعمال اس رنگ میں بھی کیا کہ وہ انسان کی ہلاکت کا موجب بن جائے۔اب دیکھو یہ ایک قوت ہے اور ہمیں نظر آ رہا ہے کہ انسان نے اس کا ایک حد تک غلط استعمال کیا ہے اور اس غلط استعمال یا غلط استعمال کے امکان کے خلاف وہ لوگ بھی آئے دن مظاہرے کر رہے ہیں جو خدا تعالیٰ کے بھی منکر ہیں۔ایٹمی قوت کے غلط استعمال کے خلاف یہ مظاہرے اس بات پر شاہد ہیں اور ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ انسانی فطرت ان چیزوں کو پسند نہیں کرتی۔ابھی ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا علم نہیں ابھی انہوں نے اس کا عرفان حاصل نہیں کیا اس کے باوجود ان کے اندر سے یہی آواز نکل رہی ہے کہ ان قوتوں اور استعدادوں کو غلط طریق پر استعمال نہیں کرنا۔انہیں اس کے صحیح استعمال کا پتہ بھی نہیں لیکن اس کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج جاری ہے۔اسی طرح اور ہزاروں مثالیں ہیں کہ جب انسان اپنے اندرونی اور بیرونی اعضا کو یا اپنی ظاہری اور باطنی قوتوں اور استعدادوں کو اس رنگ میں استعمال کرتا ہے کہ وہ اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے تو انسانی فطرت اندر سے اس کے خلاف احتجاج کرتی ہے اور کہتی ہے کہ تم یہ کیا کر رہے ہو اور یہ اس بات پر شاہد ہے کہ یہ تمام قومی اور قوتیں اور طاقتیں اور استعدادیں انسان کو اس لئے ملیں کہ وہ اس مقصد کو حاصل کرے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی معرفت اسے حاصل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا دائمی مقام اسے حاصل ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے حسن واحسان کے جلوے دیکھ کر اس کی محبت کا شعلہ اس طور پر انسان کے صحن سینہ میں بھڑ کے کہ اس کا وجود بالکل فنا ہو جائے کیونکہ اس کے بغیر وہ دلی سکون اور اطمینان اور خوش حال زندگی کا احساس اپنے اندر نہیں پاتا۔اس مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے وسائل بتائے ہیں اور مختلف طریقوں سے اس نے ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ تم یہ کرو اور وہ کر و تب تم اس مقصد کو حاصل کر سکو گے جس مقصد کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔جس مقصد کے حصول کے لئے تمہیں خاص قسم کے اعضا اور