خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 498 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 498

خطبات ناصر جلد دوم ۴۹۸ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۶۹ء صورت میں ہی میں ان سے محفوظ ہو سکتا ہوں اس کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں۔پس جماعت کے ہر فعل، جماعت کی ہر فکر اور جماعت کے ہر تدبر سے یہ آواز اُٹھنی چاہیے۔اِنَّ وَلِيے اللہ اللہ ہمارا ولی ہے۔اس کے سوا نہ ہم کسی سے ڈرتے ہیں اور نہ کسی سے خوف کھاتے ہیں اور نہ کسی کی طاقت کی وجہ سے ہم پر ایسا رعب طاری ہوتا ہے کہ ہم یہ سمجھے لگیں کہ شاید وہ ہمیں نا کام کر دے گا۔ہم مظلوم ہیں اور ہم مظلوم رہیں گے۔ہم ظالم کبھی نہیں بنیں گے۔ہم ظلم کو مٹائیں گے۔ہم ظلم پر ہمدردی اور غمخواری کا پانی چھڑکیں گے تا شیطان کی یہ آگ ٹھنڈی ہو جائے۔ہم اس میں اپنے غصہ اور اپنے تکبر اور اپنے شرک کی لکڑیاں نہیں ڈالیں گے کہ یہ آگ اور بھڑ کنے لگ جائے۔غرض جماعت یہ دعائیں کرتی رہے کہ ان ولي اللہ میں جس مقام کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ وہ مقام انہیں عطا کرے اور سچے طور پر وہ خدا کی پناہ میں آجائیں اور خدا ان کی مدد اور نصرت کے لئے ہر وقت تیار ہو اور اس طرح پر وہ دشمن کی سازش اور اس کے وار سے محفوظ ہو جا ئیں۔اس مقام کے حصول کے لئے جس قسم کی قربانیاں خدا چاہتا ہے وہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے حضور وہ قربانیاں پیش کریں تا بنی نوع انسان پھر امن اور محبت اور پیار اور ہمدردی اور غمخواری کی فضا میں زندگی گزارنے لگیں اور ظلم کا تسلسل ٹوٹ جائے اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔نہ ظالم دنیا میں نظر آئے اور نہ مظلوم دنیا میں نظر آئے۔بھائی کو بھائی نظر آئے بہن کو بہن نظر آئے۔باپ کو بیٹا نظر آئے بیٹے کو باپ اور ماں نظر آئیں۔خاوند کو بیوی نظر آئے اور بیوی کو خاوند نظر آئے۔الغرض انسان کو انسان نظر آئے لیکن کسی کو نہ ظالم نظر آئے نہ مظلوم نظر آئے۔خدا کے سب بندے خدا کی امان اور اس کی رحمت کے نیچے اکٹھے ہو جائیں اور وہ جو دنیا کا محسن اعظم تھا اس کے ٹھنڈے سایہ تلے آجائیں اور امن اور فلاح اور کامیابی اور سکون کی زندگی گزارنے لگیں۔روزنامه الفضل ربوه ۱۲ / مارچ ۱۹۶۹ ء صفحه ۲ تا ۵)