خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 480

خطبات ناصر جلد دوم ۴۸۰ خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۶۹ء انسان پیدا ہوا اور جب تک انسان اس دنیا میں رہے گا) تو ہے۔تیرے طفیل پہلوں نے بھی عزت پائی اور بعد میں آنے والے بھی تیرے ہی طفیل عزت حاصل کریں گے۔تمہیں اب سر چشمہ عزت بنادیا گیا ہے تو چونکہ تیرے طفیل ہی سب کو عزت ملی ہے اس واسطے ان کے قول ان کے منہ کی باتیں بے نتیجہ ہیں، بے اثر ہیں۔عزت کا مالک تو تو ہی ہوگا۔لا تحزن غم کرنے کی ضرورت نہیں۔تیرے طفیل اسلام ہمیشہ معزز رہے گا۔اسلام ہمیشہ ملائکہ کی بشارتیں حاصل کرتا رہے گا اور اسلام اور اُمت مسلمہ ہمیشہ اعلیٰ رہے گی اور خدا تعالیٰ ہمیشہ متقیوں کے ساتھ رہے گا۔ان متقیوں کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت قرآنی پر عمل کرنے والے ہیں۔اس واسطے لا تحزن اے رسول! تجھے ان اندرونی دشمنوں کی یہ حرکتیں اور یہ منصوبے جو وہ کر رہے ہیں جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اس خیال میں نہ ڈالیں کہ وہ کامیاب اور تو نا کام ہو جائے گا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو یقین اور پختگی کے ساتھ اس حقیقت پر قائم تھے لیکن آیات قرآنی میں جن کے مخاطب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں اس قسم کا مضمون اگر بیان ہو تو ہم لوگوں کو سبق دینے کے لئے یہ اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کامیاب تو تم ہی نے ہونا ہے پھر ان لوگوں کو موقع کیوں دیا جاتا ہے ایذا پہنچانے اور سازشیں کرنے کا ؟ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بھی بتادی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو اس قسم کی مفسدانہ حرکتوں کی مہلت اور اجازت اس لئے دی جاتی ہے کہ ان کا امتحان لیا جائے اور اس امتحان کے نتیجہ میں ان کا اندرونہ آشکار ہو جائے اور لوگوں کو پتہ لگ جائے کہ مصلح ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجو د فساد سے ان کے دل بھرے ہوئے اور ایمان سے ان کے دل خالی ہیں۔اس لئے ان کے اندرونہ کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ایسا موقع دیتا ہے اور جس دل میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ تقویٰ اور طہارت نہ دیکھے تو اے ہمارے رسول ! یا تم اسے اُمت مسلمہ !! ان کے لئے کچھ نہیں کر سکتے جب ان کے دل تقویٰ اور طہارت سے خالی ہیں تو تمہارا تقویٰ اور تمہاری طہارت اور پاکیزگی جسے خدا تعالیٰ کے فضل سے تم نے حاصل کیا ان لوگوں کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ان میں خلوص نہیں ، عشق الہی نہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم