خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 475 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 475

خطبات ناصر جلد دوم ۴۷۵ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۶۹ء اس قسم کے بد اعمال کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ کا گروہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا جو کفر کی باتیں سننے اور کفر کی باتوں کے پھیلانے اور کفر کی بداعمالیوں کی طرف سرعت سے متوجہ ہونے میں سب سے آگے تھا اس کی طبیعت کا میلان ہی اس طرف تھا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اس قسم کے لوگ پائے جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہی فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کا مقصد چونکہ اسلام کو اور امت مسلمہ کو کمزور کر دینا ہوتا ہے اس لئے ان لوگوں کا تعلق ان غیر مسلموں کے ساتھ رہتا ہے جو اسلام کے بظاہر نز دیک آتے تھے، باتیں سنتے تھے مسلمانوں کی مجلسوں میں بیٹھتے تھے لیکن خلوص نیت کے ساتھ نہیں بلکہ بد نیتی کے ساتھ اور دو مقصد ان کے پیش نظر ہوتے۔ایک تو اس قسم کے کمزور ایمان والوں سے تعلق پیدا کر کے جھوٹی باتوں کو وہ سنتے اور اخذ کرتے تھے۔پھر غیر مسلموں میں جا کے یہ کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے مصلح لوگوں نے یوں کہا کیونکہ ان لوگوں کے متعلق قرآن کریم یہی کہتا ہے کہ جب ان سے کہا جائے کہ فساد کی باتیں نہ کرو تو جواب دیتے ہیں۔اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ۔(البقرۃ:۱۲) یہ یہودی جو تھے وہ مسلمانوں سے تعلق قائم کرتے اور باتیں سنتے تھے اور پھر دوسروں کو جا کے کہتے تھے کہ بڑے بڑے بزرگ مصلح خدمت گزار مسلمانوں سے ہم نے یہ باتیں سنی ہیں اور اس قسم کی جھوٹی باتیں پھیلا کر وہ اسلام کے خلاف مکر اور منصوبے کرتے تھے۔دوسرے ان کا مقصد یہ تھا کہ صداقت کی باتیں ، قرآن کریم کی آیات اور ان آیات کی تفسیر سنیں اور جس رنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان ہدایتوں کے مطابق زندگی گزارتے تھے وہ دیکھیں ، ان کے متعلق باتیں سنیں لیکن نیست یہ نہیں ہوتی تھی کہ صداقت کو صحیح شکل میں آگے پھیلا ئیں بلکہ وہ آیات قرآنی کو سنتے تھے اس نیت کے ساتھ کہ اس کا مفہوم اس رنگ میں پھیلائیں گے کہ اعتراض کرنے والے اسلام کو اعتراض کا نشانہ بنائیں اور اسلام کی اشاعت میں اس طرح ایک روک پیدا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں یہ بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے