خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 474 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 474

خطبات ناصر جلد دوم ۴۷۴ خطبہ جمعہ ۱۷/جنوری ۱۹۶۹ء لوگ وہ بھی شامل تھے جن کا ایمان صرف زبان تک تھا جن کے دل ایمان سے خالی تھے۔اس گروہ میں پھر دو قسم کے لوگ پائے جاتے تھے۔ایک وہ جن کے دل اگر چہ ایمان سے اس وقت تک خالی تھے لیکن آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں ایمان داخل ہو رہا تھا جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَلَمَّا يَدُ خُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ - (الحجرات : ۱۵) کہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اُمید رکھی جاسکتی ہے کہ تمہارے دلوں میں یا تم میں سے بعض کے دلوں میں بعد میں ایمان داخل ہو جائے اور تم پختہ طور پر اور سچے طریق پر ایمان لے آؤ۔اسی وجہ سے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرما یا کہ سب لوگ جن کے دل ایمان سے ابھی خالی ہیں وہ اس قسم کی حرکتیں کرتے اور اس قسم کی بداعمالیوں کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ کہ جن کے دل ایمان سے ابھی خالی ہیں لیکن جن کی زبان ایمان کا اقرار کرتی ہے ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کے متعلق اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔وووووو جن کے دل ایمان سے خالی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لیکن زبان سے ایمان کا اقرار تھا وہ پھر دو گروہوں میں تقسیم تھے ایک وہ جن کے متعلق یہ اُمید کی جاسکتی تھی کہ ایک وقت میں ان کے دلوں میں نور ایمان داخل ہو کر ان کی روح کو اور ان کے دل کو اور ان کے جسم کو اور ان کے خیالات اور جذبات کو اور ان کی تمام استعدادوں کو منور کر دے گالیکن ایک وہ تھے جن کے متعلق اس قسم کی اُمیدان کی ظاہری حالت کو دیکھ کر نہیں رکھی جاسکتی تھی اور انہی کا ذکر اس آیہ کریمہ میں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ جو يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ کفر کی اور فتنہ کی اور فسوق کی باتیں سنے کی طرف بڑی جلدی مائل ہو جاتے ہیں اور اس قسم کی فاسقانہ باتیں پھیلانے کا میلان ان کی طبیعتوں میں ہے اور ان کے اعمال بھی کفر کی ملونی کی وجہ سے کافرانہ اعمال ہی کہلائے جاسکتے ہیں۔ایمان کے امتحان کے وقت مضبوط دل والا تو ایمان کی پختگی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن یہ لوگ اپنے ایمان کی کمزوری کا اور کفر کی آمیزش کا مظاہرہ کرتے ہیں اور فوراً