خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 450 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 450

خطبات ناصر جلد دوم ۴۵۰ خطبہ جمعہ ۲۷/دسمبر ۱۹۶۸ء دوسری بات اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں یہ بیان فرمائی ہے کہ ہدایت کے اصول اور ان اصول کی فروع اور شاخوں کے صحیح علم کا حصول رحمتِ باری پر موقوف ہے اگر چہ قرآن کریم نے ہدایت کی سب راہوں کو منور کیا ہے لیکن اس نور کو دیکھنے کی آنکھ رحمت باری کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔تیسری بات اس آیہ کریمہ میں ہمیں یہ بتائی گئی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے سامان پیدا ہو جائیں کہ تم قرآن کریم کی بتائی ہوئی روشن اور منور راہوں کو سمجھنے لگو تو پھر ایک اور چیز کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ ان راہوں پر چلنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ملتی نہیں اور اللہ تعالیٰ نے چوتھی بات اس آیہ کریمہ میں ہمیں یہ بتائی ہے کہ رحمت کے حصول کے ذرائع بھی قرآن کریم نے ہی ہمیں بتائے ہیں ان ذرائع کے حصول کے لئے قرآن کریم کی طرف توجہ کرو اور قرآنی تعلیم کے مطابق عمل کرو اور جیسا کہ قرآن کریم نے کہا ہے دعاؤں میں لگے رہو اور خود کو نیست محض سمجھو اور سب نور اور سب رحمت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو جانو اور اس سے دعا کرتے رہو کہ وہ ہمارا پیارا عزّ اسمہ تمہیں ان راہوں کے سمجھنے اور ان کے جاننے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب اس رحمت کا نزول انسان پر ہو جاتا ہے تو اس کو اس کی خوشیاں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی وہ جنت مل جاتی ہے کہ جس کی قیمت کا تصور بھی ہمارے دماغ نہیں کر سکتے۔قرآن کریم نے یہ سب باتیں بیان کرنے کے بعد مسلمانوں کے لئے عظیم بشارت کا پیغام دیا ہے قرآن کریم کی اس عظیم بشارت کا پیغام آج میں اپنے بھائیوں کو پہنچا تا ہوں اس دعا کے ساتھ ایک مسلمان کو جو بشارتیں رَبِّ رحیم نے دی ہیں وہ ہمیشہ ہی ہم احمدیوں کو ملتی رہیں۔روزنامه الفضل ربوه ۵ فروری ۱۹۶۹ ، صفحه ۲)