خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 446 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 446

خطبات ناصر جلد دوم ۴۴۶ خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۶۸ء تھے بلکہ بعض دفعہ جب آپ دیکھتے کہ مدینہ میں کوئی گھر ایسا نہیں جو ان سارے مہمانوں کو سنبھال لے تو آپ خود انہیں ساتھ لے جاتے اور فرماتے ان کو میں سنبھال لیتا ہوں وہ غربت کا زمانہ تھا جگہیں بھی تنگ تھیں مثلاً ایک دفعہ دس کے قریب مہمان تھے آپ نے فرمایا تم میرے ساتھ چلو آپ کی سادہ زندگی تھی ہماری بھی سادہ زندگی ہونی چاہیے اسی لئے خدا تعالیٰ نے کہا ہے اسراف نہ کرنا جو تمہیں میسر آئے وہ پیش کر دو جس حد تک تم خدمت کر سکو کرو تمہیں ثواب مل جائے گا اور اس کو بھی آرام مل جائے گا مثلاً پیار سے بات کرنا، بشاشت سے بات کرنا خوش اخلاقی سے بات کرنا اس پر تو کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا پھر جس طرح بعض صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ خود بھوکے رہے اور مہمانوں کو کھانا کھلایا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے کہ بعض اوقات سارا گھر بھوکا رہتا تھا اور مہمانوں کو کھانا کھلا دیتے تھے پھر خدمت اپنے ہاتھ سے کرتے تھے یہ نہیں کہ کسی اور کے سپرد کر دیں وہ فدائی صحابہ جو آپ پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے کیا وہ گھنٹہ یا دو گھنٹہ کے لئے آکر آپ کے مہمانوں کی خدمت نہیں کر سکتے تھے؟ وہ ضرور ایسا کر سکتے تھے بلکہ وہ تو سمجھتے کہ اس سے بڑھ کر ہماری کیا عزت افزائی ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم آکر میرے مہمانوں کی خدمت کر ولیکن آپ کا طریق یہ تھا کہ آپ مہمانوں کی خدمت خود کرتے اور اس کو کسی اور کے سپرد نہ کرتے یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی ہمیں نظر آتا ہے آپ سادہ اور بے تکلف طریق پر مہمان کی خدمت کرتے تھے یہاں بھی سادہ اور بے تکلف طریق پر مہمان کی خدمت ہونی چاہیے اور اس خیال سے اور اس نیت سے ہونی چاہیے کہ وہ ہمارے مہمان ہیں، ہمارے آقا کے مہمان ہیں اور ان کے حقوق ان حقوق سے بہر حال زائد ہیں جو ایک عام مہمان کے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن کریم میں بیان کیا ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق ہدایت دی ہے غرض اس جذ بہ خدمت کے ماتحت ایک احمدی کو رضا کار کی حیثیت سے ان مہمانوں کی خدمت کرنی چاہیے کہ ایک طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور اس مہمان نوازی کا بھی شکر یہ ادا ہو جائے کہ اس نے فرمایا ہے کہ دیکھو میں نے تمہارے حق کو قائم کر دیا ہے بلکہ حق سے زائد احسان کی تمہارے بھائیوں کو تعلیم دی ہے میں نے