خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 445
خطبات ناصر جلد دوم ۴۴۵ خطبه جمعه ۲۰ /دسمبر ۱۹۶۸ء کھانا کمرہ میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں یہ درست طریق نہیں اس سے مہمان کو تکلیف ہوتی ہے مہمان کو کھانا پوری عزت اور اکرام کے ساتھ ملنا چاہیے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان کا حق ہے۔پھر مہمان کی ہر جائز ضرورت پوری ہونی چاہیے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ شرم کی وجہ سے اور بعض دفعہ تربیت کی کمی کی وجہ سے مہمانوں کی جائز ضرورتوں کو رضا کارذمہ دار منتظمین تک نہیں پہنچاتے بعض دفعہ رضا کار سمجھتے ہیں کہ معلوم نہیں کہ ہم گئے تو اس دوائی یا دودھ یا کسی اور ضرورت کا انتظام بھی ہو گا یا نہیں اللہ تعالیٰ مہمان کی ہر جائز ضرورت کا انتظام کرے گا انشاء اللہ آپ وہ ضرورت ان منتظمین تک پہنچا دیں جن کا اس سے تعلق ہے اگر وہ اسے جائز سمجھیں گے تو وہ اسے پوری کر دیں گے لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ مہمان کی ضرورت جائز ہے یا نہیں آپ کا کام نہیں آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اس ضرورت کو ذمہ دار منتظمین تک پہنچا دیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان نوازی کو اتنی اہمیت دی ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حج کے موقع پر حضرت عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ حج کے ایک ضروری رکن کو چھوڑ دیں اور ان کا حج بھی پورا ہو جائے کیونکہ اجازت کا یہی مطلب ہوسکتا ہے اور وجہ یہ بتائی کہ میں نے مکہ میں جا کر حاجیوں کو پانی پلانے کا انتظام کرنا ہے کیونکہ یہ کام میرے سپرد ہے۔آپ نے فرمایا تمہیں ایسا کرنے کی اجازت ہے اب دیکھو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان نوازی کی خاطر حج کے ایک اہم رکن کو چھوڑنے کی اجازت دے دی یہ اجازت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خودا اپنی طرف سے نہیں دی تھی آپ کا یہ حق نہیں تھا کہ آپ خدا کی مرضی کے بغیر کسی کو ایسی اجازت دیں اس لئے نب ہم کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی اجازت دی تو اس سے ہمارا یہ مطلب ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ آپ حضرت عباس کو یہ رکن چھوڑنے کی اجازت دے دیں کہ مہمانوں کو پانی پلانے کا انتظام کرنے کے لئے مکہ چلے جائیں۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں نظر آتا ہے کہ آپ بڑے پیار سے اپنے مہمانوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور پھر خدمت خود کرتے تھے یہ کام کسی اور کے سپرد نہیں کرتے