خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 430 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 430

خطبات ناصر جلد دوم ۴۳۰ خطبه جمعه ۱۳ ردسمبر ۱۹۶۸ء آج اگر یہ مرجائے تو یہ جہنم میں پھینک دیا جائے پس اس کی لیلتہ القدر تو ہو گی اس کی تقدیر کا اس دن فیصلہ تو ہو گیا مگر وہ فیصلہ خوشکن فیصلہ نہیں وہ پاس ہونے کا فیصلہ نہیں وہ خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کا فیصلہ نہیں وہ خدا تعالیٰ کے نور سے منور ہونے کا فیصلہ نہیں کیونکہ اعمال نامہ اس کا خالی پڑا ہے نور تھا ہی نہیں کہ اعمال نامہ میں اس کا اندراج کیا جاتا۔پس لیلتہ القدر کے یہ معنی نہیں جو لوگوں نے سمجھ رکھے ہیں بلکہ لیلتہ القدر کے یہ معنی ہیں کہ اس دن زندگی کا ایک باب ختم ہوا اور ایک نیا باب شروع ہوا۔پھر چونکہ خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں ختم نہیں ہوں گی اس لئے اگر کوئی انسان چاہے کتنے ہی مقامات قُرب حاصل کر لے تب بھی اس کے آگے بے شمار مقامات قُرب ہیں جن کو وہ حاصل کر ہے۔لیلتہ القدر پر اس کی زندگی کا ایک باب ختم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کہتا ہے آج اس کی تقدیر کا فیصلہ کر دو کہ اس کی سال بھر کی خلوص نیت سے کی ہوئی عبادتوں اور اطاعتوں اور اسلام (اسلمت سکتا۔لِرَبِّ الْعَلَمِينَ ( یعنی فرمانبرداری کے مظاہروں کا آج میں خاص طور پر انعام دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس لیلتہ القدر میں اپنے بعض بندوں کو خاص انوار سے نوازتا ہے اور بعض کو عام انوار سے ( جو معمول سے زیادہ ہوتے ہیں ) نوازتا ہے اور ان کو کہتا ہے کہ پہلی لینڈ نگ (Landing) اگر کسی عمارت میں کئی منزلوں تک سیڑھیاں چڑھ رہی ہوں تو ایک جگہ آکر ایک حصہ سیڑھیوں کا ختم ہو جا تا ہے اور ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے ) تم پہنچ گئے کچھ رفعتوں کو تم نے حاصل کر لیا ہے اب ایک باب تمہاری زندگی کا ختم ہو گیا ہے نیا باب اس عزم اور ہمت اور دعا اور توجہ سے شروع کرو کہ سال گزرنے کے بعد ہم اس سے بلند مقام پر ہوں گے نیچے نہیں گریں گے اور نہ ہی موجودہ جگہ پر ٹھہریں گے پھر یہ باب بھی ختم ہو جاتا ہے پھر اگلا باب شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ اعمال نامہ کی کتاب کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور ہمیں ہدایت دی گئی ہے کہ پہلے دن سے آخری دن تک یہ دعا کرتے رہو کہ اے خدا! ہمارا انجام بخیر ہو کیونکہ ایک شخص اپنی زندگی کے ایک حصہ میں جتنا جتنا روحانی طور پر بلند ہوتا ہے اتنا ہی اس کے لئے زیادہ خطرہ ہے کہ اگر وہ گرا تو اس کی ہڈی پسلی قیمہ کی طرح پس جائے گی پانچ فٹ کی بلندی سے کوئی گرے تو اسے تھوڑی چوٹ لگتی ہے لیکن اگر