خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 402
خطبات ناصر جلد دوم ۴۰۲ خطبه جمعه ۲۲ / نومبر ۱۹۶۸ء اے ہمارے پیارے ربّ! جہاں تو نے بے شمار انعامات ہم پر کئے ہیں وہاں یہ فضل بھی کر کہ اس آیت میں جس فضل کے حصول کی طرف ہمیں متوجہ کیا گیا ہے، اسے ہم حاصل بھی کر سکیں اور اس پر عمل بھی کر سکیں اور ہمیں حکمت سکھا عَلى وَجْهِ الْبَصِيرَت ہم تیری باتوں کو تسلیم کرنے والے ہوں تا کہ شیطانی وسوسوں سے ہم محفوظ ہو جائیں، حکمت وہاں محفوظ ہو جاتی ہے اسے حفاظت میں لے لیتی ہے یا دین العجائز حفاظت میں لے لیتے ہیں جس کا تعلق ہدایت کے ساتھ ہے اور پھر ہمیں ایسا مقام دے کہ نہ صرف یہ کہ ہم اپنے اندر تیری رضا کو محسوس کرتے ہوئے ابدی اور انتہائی مسرتوں کو پانے والے ہوں بلکہ وہ لوگ جو بد قسمت ہیں اور جو تجھے پہچانتے نہیں تیری ذات اور صفات کا علم نہیں رکھتے ہمارے اس فرقان کے نتیجہ میں ہمارے اس امتیازی نشان کے نتیجہ میں ہماری دعاؤں کی قبولیت اور تیری بشارتوں کے نتیجہ میں وہ بھی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں کہ انسانی طاقت سے یہ بالا چیزیں ہیں اور سوائے خدا کے جو تمام طاقتوں اور حکمتوں کا سر چشمہ اور منبع ہے انہیں حاصل نہیں کی جا سکتا۔اس لئے ہمیں بھی اس پاک ذات کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور اس قوت اور طاقت کو حاصل کرنا چاہیے نہ صرف یہ کہ ہم اس کے ایسے بندے بن جائیں جیسا کہ وہ ہمیں دیکھنا چاہتا ہے بلکہ وہ لوگ بھی جو تجھے پہچانتے نہیں وہ بھی ہماری عاجزانہ کوششوں سے تجھے پہچاننے لگیں اور تیرے انعامات کو جس طرح ہم حاصل کر رہے ہیں وہ بھی حاصل کرنے لگیں۔تو ان تین برکتوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے پہلے حصہ میں ہمیں توجہ دلائی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کریں اور فکر اور تدبر سے کام لیتے ہوئے ہدایت یعنی جو تعلیم ہے اسے سمجھنے اور یا درکھنے کی کوشش کریں اور یہ دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت پر عمل کرنے کی بھی توفیق عطا کرتا رہے۔پھر اللہ تعالیٰ سے یہ توفیق چاہیں کہ وہ ہمارے اندر اس قسم کا تزکیۂ نفس پیدا کر دے کہ ہم قرآن کریم کی ہدایت کی حکمتوں کو سمجھ جائیں اور وہ ہمارا استاد اور معلم بنے اور قرآن کریم کی ہدایتوں کی حکمتیں ہمیں سکھائے اور وہ خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق پیدا کرے کہ ہمارے اور غیر کے درمیان ایک امتیازی حیثیت پیدا ہو جائے ہم کچھ اور ہوں وہ کچھ اور ہو دنیا دیکھ لے کہ