خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 395
خطبات ناصر جلد دوم ۳۹۵ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء حاصل ہو جاتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ان کے دل میں ان کی محبت پیدا ہو اور جب تک محبت پیدا نہ ہوا وہ ان کی پوری شفقت اور ان کے انعاموں میں سے پورا حصہ حاصل نہیں کر سکتے لیکن یہاں یہ بات نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكَّلِينَ (ال عمران :١٦٠) یعنی جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں وہ اس کے محبوب بن جاتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جائے اس کا کوئی دکھ باقی نہیں رہتا اس لئے فرمایا۔اِن تَنْصُرُكُمُ اللهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۚ وَ إِنْ يَخْذُ لَكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِ؟ (آل عمران:۱۶۱) اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد اور نصرت کرنا چاہے تو کوئی اور طاقت یا ہستی تم پر غالب نہیں آسکتی لیکن اگر وہ تمہاری مدد اور نصرت چھوڑ دے تو خدا کو چھوڑ کر اور کون تمہاری مدد کرے گا اس لئے تمہیں چاہیے کہ اس پر کامل تو گل کر کے اس کے محبوب بن جاؤ وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (ال عمران:۱۶۱) جب تم اس کے محبوب بن جاؤ گے تو اس کی نصرت کو تم حاصل کر لو گے اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اس کی نصرت سے تم محروم ہو جاؤ گے ، اگر تم اس کے محبوب بن جاؤ گے تو تمہیں اس کی نصرت ملے گی اور تمہاری زندگی کا مقصد تمہیں حاصل ہو جائے گا۔اس وقت سب سے بڑی تڑپ ایک احمدی کے دل میں یہ ہے کہ اسلام ساری دنیا میں غالب آئے اس کی یہ تڑپ اور خواہش پوری ہو جائے گی۔پھر فرمایا کہ محدودے چند چیزیں نہیں ملنی بلکہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کے محبوب بن جاؤ گے تو بہترین جزا جو کوئی شخص حاصل کر سکتا ہے وہ تمہیں مل جائے گی۔اس دنیا میں بھی دیکھو خدا تعالیٰ جب کسی پر احسان کرنے پر آتا ہے تو وہ اس کے توکل کا اس قسم کا اجر دیتا ہے کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے سورۃ عنکبوت میں فرمایا ہے۔نِعْمَ أَجْرُ الْعَمِلِينَ - الَّذِينَ صَبَرُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (العنکبوت: ۶۰،۵۹) یعنی اچھے عمل کرنے والوں کا اجر بہت اچھا ہوتا ہے۔وہ مومن جو اعمال صالحہ بجالاتے ہیں جو اپنے عقیدہ پر پختگی سے قائم رہتے ہیں اور اعمالِ صالحہ بجالانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اپنے رب اللہ پر ہی تو گل کرتے ہیں اور اس یقین پر کھڑے ہوتے ہیں کہ اس تو گل کے نتیجہ میں انہیں ایسے انعامات حاصل ہوں گے جو کسی اور